عورت انسانی معاشرے کا وہ حسین اور ناگزیر کردار ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ اسلام نے جس دور میں عورت کو عزت، وقار اور حقوق عطا کیے، اس وقت دنیا کی بہت سی تہذیبیں اسے حقارت اور محرومی کی نگاہ سے دیکھ رہی تھیں۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ ﷺ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ عورت محض ایک فرد نہیں بلکہ خاندان، معاشرے اور نسلوں کی تعمیر و تشکیل کا بنیادی ستون ہے۔
عورت کے مختلف رشتوں میں "بیٹی” کا رشتہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ بیٹی گھر کی رحمت، والدین کے لیے باعثِ سعادت اور خاندان کی خوشیوں کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ اسلام نے بیٹی کو ایسا بلند مقام عطا کیا کہ اس کی پرورش، تعلیم و تربیت اور حسنِ سلوک کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا۔ افسوس کہ بعض ادوار میں بیٹی کو بوجھ سمجھنے کی جاہلانہ سوچ نے جنم لیا، حالانکہ اسلامی تعلیمات بیٹی کو اللہ تعالیٰ کی نعمت اور رحمت قرار دیتی ہیں۔
وہ زمانہ… جب بیٹی سانس لینے سے پہلے ہی مجرم قرار دے دی جاتی تھی
یہ تاریخِ انسانیت کا وہ تاریک باب ہے جسے پڑھتے ہوئے آج بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ عرب کی تپتی ہوئی ریت پر کبھی ننھے ننھے قدموں کے نشان بنتے تھے، مگر وہ نشان زیادہ دیر باقی نہیں رہتے تھے۔ ایک باپ اپنی ہی معصوم بیٹی کا ننھا سا ہاتھ تھامے صحرا کی طرف نکلتا، بچی سمجھتی کہ شاید آج باپ اسے سیر کرانے لے جا رہا ہے۔ وہ کبھی اس کی انگلی کو چومتی، کبھی معصوم نگاہوں سے اس کے چہرے کو تکتی، اور کبھی ریت سے کھیلنے لگتی۔ مگر اسے کیا خبر تھی کہ جس ہاتھ کو وہ محبت کا سہارا سمجھ رہی ہے، وہی ہاتھ اسے زندگی سے چھین لینے والا ہے۔
ریت میں ایک گڑھا کھودا جاتا… بچی حیرت سے باپ کو دیکھتی… پھر وہی باپ اپنی جگر کے ٹکڑے کو اسی گڑھے میں اتار دیتا۔ ننھی ننھی انگلیاں باہر نکل کر زندگی کی بھیک مانگتیں، معصوم آنکھیں سوال کرتیں کہ "ابا! آخر میرا قصور کیا ہے؟” مگر جواب میں صرف ریت تھی… خاموش… جو ایک زندہ کلی کو ہمیشہ کے لیے اپنے سینے میں چھپا لیتی تھی۔
کتنی مائیں تھیں جن کی گودیں اجڑ گئیں، کتنے گھر تھے جہاں بیٹی کی ہنسی گناہ سمجھی جاتی تھی، کتنے باپ تھے جنہوں نے اپنی غیرت کے جھوٹے بت کے سامنے اپنی شفقت کو ذبح کر دیا۔ اس دور میں بیٹی جرم تھی، عورت محرومی کا دوسرا نام تھی، اور اس کے وجود کی کوئی قیمت نہ تھی۔
پھر رحمتِ عالم ﷺ تشریف لائے…
وہی بیٹی، جو کل زمین میں دفن کر دی جاتی تھی، آج آسمانوں کی رحمت قرار پائی۔ وہی عورت، جسے معاشرہ بوجھ سمجھتا تھا، اسلام نے عزت، احترام اور عظمت کا تاج پہنایا۔ حضور اکرم ﷺ نے اعلان فرمایا کہ بیٹیاں رحمت ہیں، اور ان کی اچھی پرورش کرنے والوں کے لیے جنت کی بشارت ہے۔ یوں انسانیت نے پہلی بار جانا کہ بیٹی باعثِ شرم نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خوبصورت نعمت ہے۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ایک ایسا زمانہ بھی گزرا جب عرب کی سرزمین پر جہالت نے اپنے سیاہ پر اس قدر پھیلا دیے تھے کہ انسان اپنی ہی بیٹی کی معصوم مسکراہٹ سے خوف کھانے لگا تھا۔ بیٹی کی ولادت کو باعثِ عار سمجھا جاتا، چہروں پر سیاہی چھا جاتی، اور بعض سنگ دل باپ اپنی ننھی کلیوں کو زندہ ریت میں دفن کر کے اپنے باطل معاشرے میں عزت تلاش کرتے تھے۔ قرآنِ مجید نے اس دردناک منظر کو یوں بیان فرمایا:
﴿وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ﴾
ترجمہ: "اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا اور وہ غم سے بھر جاتا۔”
(سورۃ النحل، پارہ 14، آیت: 58)
اور پھر قیامت کے دن اس معصوم بچی کی فریاد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ﴾
ترجمہ: "اور جب زندہ دفن کی گئی بچی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا؟”
(سورۃ التکویر، پارہ 30، آیات: 8-9)
زیرِ نظر سلسلۂ مضامین کی پہلی قسط میں ہم عورت کے اسی مبارک اور محترم رشتے، یعنی "بیٹی” کے مقام و مرتبے، اس کے حقوق اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کی اہمیت پر گفتگو کریں گے، تاکہ معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو اور بیٹی کے حقیقی مقام کو اجاگر کیا جا سکے۔
اللہ کریم جلَّ سبحانہٗ اپنے پاک کلام قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾
ترجمہ: "اللہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا فرماتا ہے۔”
(سورۃ الشوریٰ، پارہ 25، آیت: 49)
اس آیت میں غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے بیٹیوں کا ذکر فرمایا، جو ان کی عظمت و فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔
جنت کی بشارت
اللہ پاک کے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا:
"جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو اُس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔”
عرض کی گئی: "اور اگر دو ہوں؟”
فرمایا: "دو ہوں تب بھی۔”
عرض کی گئی: "اگر ایک ہو؟”
فرمایا: "اگر ایک ہو تب بھی۔”
(معجم الاوسط، 4/347، حدیث: 6199)
بیٹیوں کے ساتھ ہمارے پیارے نبی ﷺ کا طرزِ عمل
حضورِ جانِ کائنات ﷺ کی پیاری بیٹی، سیدۂ کائنات حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا جب نبی کریم ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر ان کا استقبال فرماتے، پھر اپنے مبارک ہاتھ میں ان کا ہاتھ لے کر اسے بوسہ دیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ اسی طرح جب نبی کریم ﷺ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے تو وہ بھی کھڑی ہو جاتیں، آپ ﷺ کا مبارک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چومتیں اور آپ ﷺ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔
(سنن ابوداؤد، 4/454، حدیث: 5217)
اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ رحمت للعالمین ﷺ اپنی عملی زندگی سے ہمیں بیٹی پر شفقت، محبت اور عزت کا درس دے رہے ہیں، اور یہ بتا رہے ہیں کہ بیٹی بوجھ یا عار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔
مسکین ماں کا بیٹیوں پر ایثار
اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ آئی۔ میں نے اسے تین کھجوریں دیں۔ اس نے ایک ایک کھجور اپنی دونوں بیٹیوں کو دی اور ایک خود لینے لگی، پھر اپنی کھجور بھی دو حصوں میں تقسیم کر کے اپنی دونوں بیٹیوں کو کھلا دی۔ مجھے اس کے اس ایثار پر بہت تعجب ہوا۔ میں نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں اس واقعے کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس ایثار کی وجہ سے اس عورت کے لیے جنت واجب فرما دی ہے۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 2630)
بیٹی کے حوالے سے مزید تفصیلی معلومات کے لیے قبلہ شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کے رسالہ "زندہ بیٹی کنویں میں پھینک دی” کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بیٹیوں کو اپنی رحمت اور نعمت سمجھنے، ان کی بہترین دینی و اخلاقی تربیت کرنے، ان کے حقوق ادا کرنے اور انہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق عزت و وقار کے ساتھ پروان چڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہِ سیدِ المرسلین ﷺ۔
ان شاء اللہ، اس کا بقیہ حصہ پارٹ 2 میں پیش کیا جائے گا۔


