مسلمان مرد بحیثیتِ قوامِ خاندان: شوہر، باپ اور نگران کی ذمہ داریاں قسط: (2/4)

یہ مضمون پڑھیں :English|اردو|العربية
a-muslim-man-as-the-guardian-of-the-family

گزشتہ قسط میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ اسلام نے مرد کو گھر کا قوام، نگران اور ذمہ دار بنایا ہے، اور قیامت کے دن اس سے اس کی رعیت یعنی بیوی بچوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اب یہ جاننا ضروری ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مرد کو خاندان کا سربراہ بنایا ہے تو اس کے ذمے اپنی زوجہ کے کیا کیاحقوق اور فرائض عائد ہوتے ہیں؟ کیونکہ اسلام نے شوہر کو حاکم ضرور بنایا ہے، مگر ایسا حاکم جو عدل، محبت، رحمت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔
بدقسمتی سے آج بعض لوگ شوہر ہونے کو صرف اختیار اور حکم چلانے کا نام سمجھتے ہیں، *جبکہ اسلام شوہر کو سب سے پہلے اپنی بیوی کا خیر خواہ، محافظ اور معاون بننے کا درس دیتا ہے۔* اگر شوہر اپنے فرائض ادا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جواب دہ ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

 

*﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾*

ترجمہ: "اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔”

(سورۃ النساء، پارہ 4، آیت: 19)

اس آیتِ مبارکہ میں شوہروں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ معاشرت، محبت، نرمی اور عزت و احترام کا معاملہ کریں۔ *گھر کا سکون صرف مالی آسودگی سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اچھے اخلاق، خوش گفتاری اور باہمی اعتماد سے حاصل ہوتا ہے۔*
اگر کبھی زوجین کے درمیان نااتفاقی ہو جائے تو انہیں چاہیے عفو و درگزر سے کام لیں اور صبر کریں۔ ایک حدیث میں سرکارِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

*جو شخص صبر کرتا ہے، اللہ پاک اسے صبر عطا فرماتا ہے، اور بندے کو صبر سے زیادہ بہتر اور وسیع نعمت نہیں دی گئی۔*

*صحیح بخاری (1449)، صحیح مسلم (1053)*

لیکن ہمارے یہاں طرفین میں یہ ہوتا ہے کہ ہر ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ نہیں رکھتے اور باہم رواداری سے کام نہیں لیتے۔ مرد چاہتا ہے کہ عورت کو باندھی سے بدتر کر کے رکھے، اور عورت چاہتی ہے کہ مرد میرا غلام بن کر رہے، جو میں چاہوں وہ ہو۔
یاد رکھیے گا! اللہ پاک نے مرد کو حاکم بنایا ہے، سرداری کا تاج مرد کے سر پر سجایا۔

اللہ کریم اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے:

 

*(اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ)*

ترجمہ: مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔

*(سورۃ النساء، پارہ 5، آیت: 34)*

مرد کا عورت پر حق کتنا ہے، اس کو سرکارِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرماتے ہیں:

*کہ حضور سرورِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر آدمی کا آدمی کے لیے سجدہ کرنا درست ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، کہ اس کا اس کے ذمہ بہت بڑا حق ہے۔ قسم ہے اس کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر قدم سے سر تک شوہر کے تمام جسم میں زخم ہوں، جن سے پیپ اور کچ لہو (پیپ ملا ہوا خون) بہتا ہو، پھر عورت اسے چاٹے تو حقِ شوہر ادا نہ کیا۔*
*مسند امام احمد بن حنبل، حدیث: 12614، جلد 4، ص 317*

لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں اب ماحول اس طرح کا بن چکا ہے کہ مرد کو کبھی بے روزگاری نے گھیرا ہوا ہے، کبھی مرد روحانی مسائل سے دوچار ہے، یا کبھی رزق کی تنگی کا شکار ہے۔ ایسے میں گھر والوں کی فرمائشیں، جو اس کی گنجائش سے باہر ہیں۔
اگر مرد گھر والوں کی ان فرمائشوں کو پورا کرے تو وہ راجہ مہاراجہ، سر کا تاج، سب بن جاتا ہے، اور اگر وہ کسی وجہ سے فرمائشیں پوری نہ کرے تو پھر پاؤں کی جوتی بھی بن جاتا ہے۔
اب جس بیچارے کی تنخواہ ہی کم ہو، کماتا ہی کم ہو، تو وہ کیسے ان فرمائشوں کو پورا کرے گا؟
پھر ایسی سچویشن میں عورتیں اپنے مرد کو طعنہ دیتی ہیں، اس کو ذلیل کرتی ہیں۔ اب ایسی صورت میں مرد بیچارہ کیا کرے؟ چوری کرے؟ کہیں ڈاکہ مارے؟ یا کسی کا مال چھین لے؟ یا جھوٹ بولے؟ کیا کرے؟
بعض مرد پریشان ہو کر بیچارے خودکشی تک کر لیتے ہیں۔ اللہ کریم اس سے ہم سب کو محفوظ فرمائے۔
عورتوں کو چاہیے ان حالات میں صبر و ہمت سے کام لیں اور اللہ کی رحمت پر نظر رکھیں کہ، ان شاء اللہ، ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ یہ دن بھی گزر جائیں گے اور پھر اچھے دن آ جائیں گے۔
اللہ پاک کسی کے اوپر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔

اللہ کریم اپنی نازل کردہ لاریب کتاب میں ارشاد فرماتا ہے:

 

*(لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا)*

ترجمہ: اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔

*(سورۃ البقرہ، پ 3، آیت: 286)*

اور جو عورتیں اپنے شوہروں کو ایذا دیتی ہیں، طعنہ دیتی ہیں، انہیں اس روایت کو اپنے پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

جس کو امام احمد بن حنبل، امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اپنی کتابوں میں نقل کیا:

*کہ تاجدارِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کو دنیا میں ایذا دیتی ہے تو حورِ عین کہتی ہیں: خدا تجھے قتل کرے، اسے ایذا نہ دے، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے، عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا۔*

*جامع ترمذی، ابواب الرضاع، حدیث: 1177، جلد 2، ص 392*

اس کا بقیہ حصہ پارٹ 3 میں پیش کیا جائے گا۔

اوپر تک سکرول کریں۔