گزشتہ قسط میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو خاندان کا قوام اور نگران بنایا ہے، اور اسی مناسبت سے بیوی پر شوہر کے بعض حقوق بھی عائد کیے ہیں۔ تاہم اسلام کا حسن یہ ہے کہ اس نے جہاں حقوق بیان کیے ہیں وہاں فرائض بھی متعین فرمائے ہیں، تاکہ خاندان کا نظام عدل و انصاف کے ساتھ چل سکے۔ اسلام یک طرفہ حقوق کا قائل نہیں بلکہ ہر حق کے مقابل ایک ذمہ داری بھی مقرر کرتا ہے۔
چنانچہ جس طرح بیوی پر شوہر کی اطاعت اور اس کے حقوق کی ادائیگی لازم ہے، اسی طرح شوہر پر بھی اپنی زوجہ کے حقوق ادا کرنا فرض ہے۔ ایک مسلمان مرد صرف گھر کا سربراہ ہی نہیں بلکہ اپنی بیوی کا محافظ، کفیل، خیر خواہ اور ذمہ دار بھی ہے۔
سب سے پہلی ذمہ داری بیوی کے نان نفقہ کی ہے۔ اللہ کریم قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ
ترجمہ: "مرد افسر ہیں عورتوں پر، اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے۔”
(سورۃ النساء، آیت: 34)
اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مرد کو جو قوامیت عطا کی گئی ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی اور اہل و عیال کے اخراجات برداشت کرتا ہے۔ لہٰذا شوہر پر لازم ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق بیوی کے کھانے پینے اور ضروریاتِ زندگی کا بندوبست کرے۔
اسی طرح بیوی کے لیے رہائش فراہم کرنا بھی شوہر کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ
ترجمہ: "عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی طاقت بھر۔”
(سورۃ الطلاق، آیت: 6)
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ شوہر اپنی حیثیت اور وسعت کے مطابق بیوی کے لیے مناسب رہائش کا انتظام کرے، جہاں وہ عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
لباس اور ضروری اخراجات بھی شوہر کے ذمہ ہیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"سن لو! میں تمہیں عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں، وہ تمہارے پاس امانت ہیں۔”
(الترغیب والترہیب، جلد 2، صفحہ 39)
اسی طرح شوہر کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ترین ذمہ داری اپنے بیوی بچوں کا نان نفقہ بھی ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں اس کی بہت زیادہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے، یہاں تک کہ ایک حدیثِ پاک میں فرمایا گیا کہ انسان جب اللہ کی رضا کے لیے کچھ بھی خرچ کرتا ہے تو اس پر وہ اجر کا مستحق ہوتا ہے، یہاں تک کہ بیوی کے منہ میں لقمہ رکھنے پر بھی وہ اجر و ثواب کا مستحق ہوگا۔ ایک اور حدیثِ پاک میں فرمایا گیا کہ اچھی نیت سے بیوی کے منہ میں کوئی چیز رکھنا بھی صدقہ ہے۔
بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کے متعلق حدیثِ پاک ہے:
"وَمَهْمَا أَنْفَقْتَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ”
ترجمہ: "تم جو بھی خرچ کرو گے، وہ تمہارے لیے صدقہ ہے، یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی زوجہ کے منہ میں رکھتے ہو۔”
(صحیح البخاری، جلد 7، صفحہ 62)
فتاویٰ تاتار خانیہ میں ہے:
"والنفقۃ الواجبۃ: الماکول والملبوس والسکنیٰ”
ترجمہ: "واجب نفقہ سے مراد کھانے پینے کی اشیاء، پہننے کے کپڑے اور رہائش مہیا کرنا ہے۔”
(فتاویٰ تاتار خانیہ، جلد 5، صفحہ 358)
شوہر کی ایک اہم ذمہ داری حسنِ معاشرت اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ
ترجمہ: "اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔”
(سورۃ النساء، آیت: 19)
سرکارِ دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔”
(جامع ترمذی، حدیث: 3895)
لہٰذا ایک مسلمان شوہر کو چاہیے کہ وہ سخت مزاجی، گالم گلوچ، تحقیر اور ظلم سے اجتناب کرے اور اپنی بیوی کے ساتھ محبت، شفقت اور حسنِ اخلاق سے پیش آئے۔
اسی طرح شوہر پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کی دینی تربیت کا اہتمام کرے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا
ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ۔”
(سورۃ التحریم، آیت: 6)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جہاں مسلمان پر اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے، وہیں اہلِ خانہ کی اسلامی تعلیم و تربیت کرنا بھی اس پر لازم ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے بیوی بچوں اور گھر میں جو افراد اس کے ماتحت ہیں، ان سب کو اسلامی احکامات کی تعلیم دے یا دلوائے، یونہی اسلامی تعلیمات کے سائے میں ان کی تربیت کرے، تاکہ یہ بھی جہنم کی آگ سے محفوظ رہیں۔
لہٰذا شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کو نماز، روزہ، پردہ، حلال و حرام اور دیگر اسلامی احکام سیکھنے اور ان پر عمل کرنے میں معاونت فراہم کرے۔
اچھے شوہر کی عمدہ نشانیاں
بیوی کے تمام حقوق ادا کرے۔
کسی اجنبی عورت پر نگاہ نہ ڈالے، صرف اپنی بیوی کا ہو کر رہے۔
بیوی پر ظلم و زیادتی نہ کرے۔
بیوی کے عیب اور خامیوں پر پردہ رکھے۔
بیوی کے میکے والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔
بیوی کے آرام کا ہر طرح سے خیال رکھے۔
بیوی کی تند مزاجی اور بداخلاقی پر صبر کرے۔
بیوی کو ذلت و رسوائی سے بچائے رکھے۔
بیوی کو حکمت کے ساتھ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکتا رہے۔
بیوی کے اخراجات میں کنجوسی نہ کرے۔
بیوی کی خوبیوں پر نظر رکھے اور معمولی غلطیوں کو نظر انداز کرے۔
دوسروں کی باتوں میں آ کر اپنی بیوی اور بچوں پر ظلم نہ کرے اور اپنے ہی ہاتھوں اپنا گھر برباد نہ کرے۔
اس کا بقیہ حصہ پارٹ 4 میں پیش کیا جائے گا۔


