مسلمان مرد بحیثیتِ قوامِ خاندان: شوہر، باپ اور نگران کی ذمہ داریاں
قسط: (1)
اسلام نے مرد کو صرف گھر کا کفیل ہی نہیں بنایا بلکہ اسے اپنے اہلِ خانہ کا نگہبان اور ذمہ دار بھی قرار دیا ہے۔ ایک مسلمان شوہر کا مقام گھر کی بنیاد کی مانند ہے؛ اگر وہ اپنے کردار، اخلاق اور ذمہ داریوں میں مضبوط ہو تو پورا گھر امن، محبت اور سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
شوہر کا فرض صرف معاشی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت، شفقت اور عدل کا برتاؤ کرنا بھی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے بہترین مسلمان اسے قرار دیا جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہتر ہو۔
نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
*”خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَهْلِي”*
(جامع ترمذی، حدیث: 3895)
ترجمہ: "تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔”
ایک باوقار مسلمان شوہر گھر میں رحمت، اعتماد اور خیرخواہی کا ماحول پیدا کرتا ہے۔ اپنی زبان، رویے اور معاملات سے اہلِ خانہ کے دل جیت لیتا ہے اور ان کی دینی و اخلاقی تربیت کا بھی خیال رکھتا ہے۔
لیکن آج کے دور میں، جب گھریلو ناچاقیوں اور خاندانی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، تو ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان مرد سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنے لیے نمونہ بنائے اور گھر کے اندر محبت، برداشت، ایثار اور حسنِ معاشرت کا عملی پیکر بن جائے۔ اسی میں دنیا کی کامیابی، گھریلو سکون اور آخرت کی فلاح پوشیدہ ہے۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں یہ منصب عطا فرمایا ہے کہ ہم گھر کے اندر بحیثیتِ باپ یا بحیثیتِ شوہر ہیں، تو ہمارے بیوی بچے ہمارے ماتحت ہیں اور ہم ان کے ذمہ دار ہیں۔ لہٰذا کل بروزِ قیامت ان کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا۔
ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے حبیب ﷺ نے ارشاد فرمایا:
*”تم میں سے ہر ایک نگران (حاکم) ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”*
(صحیح بخاری، حدیث: 893)
لیکن آج دور ایسا آ گیا ہے کہ ہم علمِ دین حاصل نہیں کرتے، اچھے لوگوں کی صحبت میں نہیں بیٹھتے، اور دوسروں کی باتوں میں آکر اپنے ہی ہاتھوں اپنا گھر برباد کر لیتے ہیں اور اپنے پاؤں پر کلہاڑا مار لیتے ہیں۔ اور پھر اپنا سر پیٹتے روتے پھرتے ہیں ـ کہ یہ کیا ہوگیا
اگر اللہ نہ کرے طلاق ہوگئی تو پھر بچوں کی زندگی الگ خراب ہوتے ہےـ
اور پھر شیطان کو انسان سے کھیلنے کا ایک سنہری موقع مل جاتا ہےـ کہ دو خاندانوں میں آپس میں پھوٹ ڈلوا کر وہ خوب لوگوں کو غیبت چغلی جیسے کبیرہ گناہوں میں مبتلا کر دیتا ہے
*اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائےـ*
مجھے خود ایک شخص نے بتایا کہ پہلے ہم سارے گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے، ایک کمرے میں بیٹھ کر بات چیت کیا کرتے تھے اور ساتھ گھومنے بھی جایا کرتے تھے۔
لیکن آہ اب ایسا ہو گیا ہے کہ جب ہمارے والد صاحب گھر آتے ہیں تو ہم سب آگے پیچھے ہو جاتے ہیں، کوئی کسی سے بات نہیں کرتاـ گویا کہ ہمارے گھر میں کیمسی (kmc) آگئی ہوـ
یہ حال ہو گیا ہے ہمارا۔ اللہ کریم ہمیں اپنے گھر والوں، اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ حسنِ اخلاق اور حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ایک مرد کے اپنے گھر والوں پر کیا کیا حقوق ہیں؟ ان شاء اللہ عزوجل آئندہ قسطوں میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔


