مسلمان مرد بحیثیتِ قوامِ خاندان: شوہر، باپ اور نگران کی ذمہ داریاں آخری قسط: (4/4)

یہ مضمون پڑھیں :English|اردو|العربية
a-muslim-man-as-the-guardian-of-the-family

گزشتہ قسط میں شوہر کی حیثیت سے مرد کی ان ذمہ داریوں کا ذکر کیا گیا تھا جو اسلام نے بیوی کے حقوق کے حوالے سے اس پر عائد کی ہیں، کہ ایک مسلمان شوہر اپنی زوجہ کے نان نفقہ، رہائش، حسنِ معاشرت اور دینی تربیت کا ذمہ دار ہے۔ لیکن خاندان کا دائرہ صرف میاں بیوی تک محدود نہیں بلکہ اولاد بھی اس کا ایک اہم حصہ ہے۔

اسلام نے جس طرح والدین کے حقوق اولاد پر لازم کیے ہیں، اسی طرح اولاد کے بھی کچھ حقوق والدین، خصوصاً باپ کے ذمہ رکھے ہیں۔ ایک مسلمان باپ صرف اپنی اولاد کے دنیاوی اخراجات پورے کرنے کا پابند نہیں بلکہ ان کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کا بھی ذمہ دار ہے۔ اگر باپ اولاد کو بہترین تعلیم، عمدہ اخلاق اور اسلامی ماحول فراہم کرے تو وہ اس کے لیے صدقۂ جاریہ بن جاتی ہے، اور اگر ان کی تربیت میں غفلت برتے تو قیامت کے دن اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

اولاد اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔

اب آئیے شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اولاد کے چند حقوق سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

(1) حق: اچھی ماں کا انتخاب

اولاد کا سب سے پہلا حق، جو ان کی پیدائش سے بھی پہلے ہے، یہ ہے کہ ان کے لیے اچھی ماں کا انتخاب کیا جائے، کیونکہ بچے کی زندگی میں ماں کی بڑی اہمیت ہے۔ ماں جتنی اچھی ہوگی، اولاد کی تربیت بھی اتنی ہی اچھی ہوگی، کیونکہ علم و تربیت کی ابتدا ماں کی گود سے ہوتی ہے۔ لہٰذا نکاح کے لیے اچھی، بااخلاق اور باکردار خاتون کا انتخاب کرنا اولاد کا پہلا حق ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عورت سے نکاح کرنے میں چار باتوں کا لحاظ کیا جاتا ہے:

(1) مال، (2) حسب و نسب، (3) خوبصورتی، اور (4) دین داری۔ پھر ارشاد فرمایا: "تم دین داری کو ترجیح دو۔”

(بخاری، کتاب النکاح، باب الاکفاء فی الدین، حدیث: 5090)

لہٰذا اللہ رب العالمین کی طرف سے بیٹا عطا ہو یا بیٹی، ہر صورت میں اس کا شکر ادا کرنا لازم ہے۔

بعض لوگ بیٹے کی پیدائش پر خوش اور بیٹی کی پیدائش پر غمگین ہوتے ہیں، حالانکہ حدیثِ پاک میں بیٹی کی ولادت کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔

رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جب کسی شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاں فرشتوں کو بھیجتا ہے۔ وہ آکر کہتے ہیں: اے گھر والو! تم پر سلامتی نازل ہو۔ پھر اس بیٹی کا اپنے پروں سے احاطہ کر لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں: ایک کمزور لڑکی ایک کمزور عورت سے پیدا ہوئی ہے، جو اس کی کفالت کرے گا، قیامت کے دن اس کی مدد کی جائے گی۔”

(معجم الصغیر، ج 1، ص 30)

(2) حق: کان میں اذان دینا

بچہ پیدا ہونے کے بعد اس کے کان میں اذان دینا مستحب ہے۔

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی تو آپ ﷺ نے ان کے کان میں اذان دی۔”

(ترمذی، حدیث: 1514، مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 4157)

(3) حق: اچھا نام رکھنا

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤ گے، لہٰذا اپنے اچھے نام رکھا کرو۔”

(ابوداؤد، ج 4، ص 374، حدیث: 4948)

لہٰذا فلمی اداکاروں، کھلاڑیوں، ظالم حکمرانوں یا فاسق لوگوں کے ناموں کے بجائے انبیائے کرام علیہم السلام، صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، اہلِ بیتِ اطہار اور اولیائے کرام رحمہم اللہ کے ناموں پر بچوں کے نام رکھے جائیں تاکہ دنیا و آخرت میں برکتیں حاصل ہوں۔

(4) حق: تحنیک کرنا

مستحب یہ ہے کہ گھٹی دینے والا شخص نیک، متقی اور پرہیزگار ہو، خواہ مرد ہو یا عورت۔ اگر ایسا شخص موجود نہ ہو تو نومولود کو کسی نیک شخص کے پاس لے جایا جا سکتا ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ اپنے نومولود بچوں کو رسولِ کریم ﷺ کی بارگاہ میں لایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ ان کے لیے خیر و برکت کی دعا فرماتے اور تحنیک کرتے تھے۔

(مسلم، حدیث: 2147)

(5) حق: عقیقہ کرنا

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"ساتویں دن بچے کا نام رکھا جائے، اس کا سر مونڈا جائے اور عقیقہ کیا جائے، پھر بالوں کے وزن کے برابر چاندی یا سونا صدقہ کیا جائے۔”

(بہارِ شریعت، ج 3، ص 355)

(6) حق: حلال روزی سے پرورش کرنا

اپنی اولاد کے لیے رزقِ حلال کمانا اور انہیں حلال غذا کھلانا بھی والد کی اہم ذمہ داری ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا

ترجمہ: "اور کھاؤ جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی، حلال اور پاکیزہ۔”

(المائدہ، آیت: 88)

(7) حق: دینی تعلیم دلوانا

اولاد کی صحیح اسلامی تربیت کرے، بچپن ہی سے عقائد و معمولاتِ اہلِ سنت ان کے ذہنوں میں راسخ کرے، بدعقیدہ اور گمراہ فرقوں سے آگاہ کرے، اور بدمذہبوں کی صحبت سے بچنے کی تلقین کرے۔

ساتھ ہی ان کی اخلاقی تربیت بھی کرے، ادب و احترام سکھائے، گالیوں، فضول کھیلوں، فحش ڈراموں اور فلموں سے دور رکھے، اور اسلامی تعلیم کے ساتھ جائز دنیاوی تعلیم بھی دلوائے جو کہ اچھے ماحول میں ہو، وہاں غیر شرعی اور غیر اخلاقی معاملات نہ ہوں تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔

(8) حق: نماز کی عادت ڈالنا

بچوں کو بچپن ہی سے نماز کی عادت ڈالے، ان کے سامنے خود نماز ادا کرے، سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دے اور دس سال کی عمر میں نماز کی پابندی پر سختی کرے۔

(9) حق: قرآنِ کریم اور اہلِ بیت کی محبت سکھانا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اپنی اولاد کو تین باتیں سکھاؤ: اپنے نبی ﷺ کی محبت، ان کے اہلِ بیت کی محبت، اور قرآنِ کریم کی تلاوت۔”

(جامع الصغیر، حدیث: 311)

(10) حق: اولاد کے درمیان عدل و انصاف کرنا

بیٹے اور بیٹی کے درمیان محبت، تحائف، لباس، اخراجات اور حسنِ سلوک میں عدل و انصاف قائم رکھے۔ جس طرح بیٹے کے ساتھ شفقت کرے، اسی طرح بیٹی کے ساتھ بھی حسنِ سلوک اختیار کرے۔

(11) حق: ہنر سکھانا

اولاد کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں کسی مفید ہنر، فن یا شعبے میں مہارت دلائے تاکہ وہ معاشرے کے کارآمد فرد بن سکیں۔

(12) حق: نیک رشتہ اور بہتر مستقبل کی فکر کرنا

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو: نماز جب اس کا وقت آجائے، جنازہ جب حاضر ہو جائے، اور غیر شادی شدہ لڑکی کے نکاح میں جب اس کا مناسب جوڑ مل جائے۔”

(فتاویٰ رضویہ، ج 9، ص 309)

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی صحیح اسلامی، اخلاقی اور روحانی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، انہیں دینِ اسلام کا سچا خادم، والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور امتِ مسلمہ کا مفید فرد بنائے، اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔

اوپر تک سکرول کریں۔