عورت اور معاشرہ: کردار، ذمہ داریاں، اور چیلنجز قسط (2/4)

یہ مضمون پڑھیں :English|اردو|العربية
Women and Society

تعارف

پچھلی قسط میں ہم نے عورت کے اس مبارک رشتے پر گفتگو کی تھی جسے اسلام نے رحمت، برکت اور جنت کا ذریعہ قرار دیا ہے، یعنی "بیٹی”۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ ﷺ نے بیٹی کی ولادت، بہترین تربیت اور حسنِ اخلاق کی تعلیم کو غیر معمولی فضیلت عطا کی ہے۔ جب ایک بیٹی والدین کی محبت اور اسلامی تربیت میں پروان چڑھتی ہے تو وہ گھر کی رونق، دلوں کا سکون اور خاندان کی خوشیوں کا مرکز بن جاتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہی بیٹی زندگی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو کر "بیوی” کے عظیم منصب پر فائز ہوتی ہے۔ یہی وہ رشتہ ہے جس پر خاندان کی بنیاد قائم ہوتی ہے اور جس کے استحکام سے معاشرے کی مضبوطی وابستہ ہوتی ہے۔ اسلام نے عورت کو بطورِ بیوی عزت، احترام اور ایسے حقوق عطا کیے جن کی اس دور کی دنیا میں مثال ملنا مشکل تھی۔ اسی کے ساتھ اس پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کیں تاکہ ازدواجی زندگی محبت، سکون، وفاداری اور باہمی تعاون کا حسین نمونہ بن سکے۔

اس قسط میں ہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عورت کے اسی اہم کردار، یعنی بیوی کی حیثیت، اس کے مقام، حقوق، فرائض اور ذمہ داریوں کا جائزہ لیں گے تاکہ ازدواجی زندگی کے اس خوبصورت تصور کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے جسے اسلام نے محبت، رحمت اور سکون کی بنیادوں پر قائم کیا ہے۔

ازدواجی زندگی کا مقصد: محبت، رحمت اور سکون

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً

ترجمہ:
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔”

(سورۃ الروم، پارہ 21، آیت: 21)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام میں نکاح صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ محبت، رحمت اور قلبی سکون کا مضبوط رشتہ ہے۔

حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا: وفادار زوجہ کی بہترین مثال

حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے ہر مرحلے پر رسولِ اکرم ﷺ کا ساتھ دیا، آپ کی دلجوئی فرمائی اور ہر مشکل وقت میں حوصلہ بڑھایا۔

علامہ ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ ﷺ کفار کی تکذیب اور ایذا رسانی کی وجہ سے رنجیدہ ہوتے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے، اور اللہ تعالیٰ ان کی صحبت کے ذریعے آپ ﷺ کے غم کو دور فرما دیتا۔

(السیرۃ النبویۃ، جلد 1، صفحہ 176)

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مبارک زندگی اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ ایک مخلص اور وفادار شریکِ حیات خاندان کی سب سے بڑی قوت بن سکتا ہے۔

حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ: صبر اور وفاداری کا عظیم نمونہ

حضرت ایوب علیہ السلام سخت بیماری میں مبتلا ہوئے۔ پورا جسم زخموں سے بھر گیا، تمام رشتہ دار ساتھ چھوڑ گئے، یہاں تک کہ شہر سے باہر ایک جھونپڑی میں رہنا پڑا۔

ایسے نازک وقت میں صرف آپ کی زوجہ، رحمہ بنت افرائیم بن یوسف، آپ کے ساتھ ثابت قدم رہیں۔ انہوں نے نہ صرف صبر کا دامن تھاما بلکہ اپنے شوہر کی مکمل خدمت کی اور ہر آزمائش میں ان کا ساتھ دیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے شفا عطا فرمائی۔

آج کی مسلمان خواتین کے لیے سبق

ان کی وفاداری، صبر اور خدمت گزاری آج بھی ہر مسلمان خاتون کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

(تفسیر روح المعانی، جلد 9، صفحہ 80)

بیوی کے لیے جنت کی بشارت

حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"جو عورت اس حال میں وفات پائے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو، وہ جنت میں داخل ہوگی۔”

(جامع ترمذی، حدیث: 1164)

یہ حدیث مبارکہ ازدواجی زندگی میں حسنِ اخلاق، وفاداری اور باہمی رضا کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

عورت پر زیادہ حق کس کا ہے؟

امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے بعد مخصوص ازدواجی معاملات میں عورت پر سب سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہے، حتیٰ کہ ان معاملات میں اس کا حق والدین سے بھی زیادہ ہے۔ اسی لیے ان امور میں شوہر کی جائز اطاعت اور اس کی عزت و ناموس کی حفاظت عورت کی اہم ذمہ داری ہے۔

(فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 380)

مزید مطالعہ

اس موضوع کو مزید تفصیل سے سمجھنے کے لیے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ مفید ہے:

اساتذہ، والدین اور زوجین کے حقوق
پردے کے بارے میں سوال و جواب
مسلمان عورت کو کیسا ہونا چاہیے؟

اسلام کا متوازن خاندانی نظام

اسلام نے صرف بیوی کو ہی ذمہ داریاں نہیں دی بلکہ شوہر اور اس کے اہلِ خانہ کو بھی یہ تعلیم دی ہے کہ وہ اپنی بہو، بیوی اور گھر کے نئے فرد کے ساتھ محبت، شفقت، نرمی اور حسنِ سلوک کا معاملہ کریں۔

ایک عورت اپنا بچپن، والدین کا گھر اور اپنی بے شمار یادیں چھوڑ کر شوہر کے گھر آتی ہے۔ اس لیے اس کی عزتِ نفس، جذبات اور احساسات کا احترام کرنا اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔

جب شوہر، بیوی اور خاندان کے تمام افراد ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہیں، محبت، برداشت اور باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہیں، تو گھر سکون، رحمت اور برکت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ متوازن خاندانی نظام ہے جس کی بنیاد اسلام نے رکھی ہے۔

عورت پر زیادہ حق کس کا ہے؟

اسلام نے والدین اور شوہر دونوں کے حقوق کو بڑی اہمیت دی ہے، تاہم ازدواجی زندگی سے متعلق مخصوص معاملات میں شریعت نے شوہر کے بعض حقوق کو نمایاں حیثیت دی ہے۔

امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے بعد ازدواجی معاملات میں عورت پر سب سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہے، یہاں تک کہ ان معاملات میں شوہر کا حق والدین کے حق سے بھی مقدم ہے۔ چنانچہ ان امور میں شوہر کی جائز اطاعت کرنا اور اس کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنا عورت کی اہم ذمہ داری ہے۔

شوہر کی اجازت اور شرعی آداب

اسی ضمن میں آپ رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورت غیر محرم افراد کے پاس نہیں جا سکتی۔ محرم رشتہ داروں کے بارے میں بھی شرعی آداب اور حدود کا لحاظ ضروری ہے، جبکہ شوہر کی اجازت سے ضرورت کے مطابق آمدورفت کی جا سکتی ہے۔

(فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 380)

مزید مطالعہ

اگر اس موضوع کو مزید تفصیل کے ساتھ سمجھنا مقصود ہو تو درج ذیل کتابوں کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا:

اساتذہ، والدین اور زوجین کے حقوق
پردے کے بارے میں سوال و جواب
مسلمان عورت کو کیسا ہونا چاہیے؟

اسلام کا متوازن خاندانی نظام

اسلام نے صرف بیوی کو ہی ذمہ داریاں نہیں سونپیں بلکہ شوہر اور اس کے اہلِ خانہ کو بھی حسنِ سلوک، محبت، شفقت اور احترام کی تعلیم دی ہے۔

ایک عورت اپنا بچپن، والدین کا گھر اور اپنی زندگی کے بے شمار جذباتی رشتے چھوڑ کر اپنے شوہر کے گھر آتی ہے، اس لیے اس کے جذبات، عزتِ نفس اور احساسات کا احترام کرنا اسلامی تعلیمات کا اہم تقاضا ہے۔

محبت، برداشت، احترام اور باہمی تعاون وہ اوصاف ہیں جو ایک گھر کو سکون اور رحمت کا گہوارہ بناتے ہیں۔ جب شوہر، بیوی اور خاندان کے تمام افراد ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہیں، ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھتے ہیں اور حسنِ اخلاق کو اپناتے ہیں، تو گھر میں محبت، برکت اور اطمینان کی فضا قائم ہوتی ہے۔ یہی وہ مثالی خاندانی نظام ہے جس کی تعلیم اسلام نے دی ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔