امتِ مسلمہ آج دنیا کے مختلف حصوں میں بے شمار آزمائشوں اور مشکلات سے گزر رہی ہے۔ کہیں فلسطین میں بے گناہ جانیں متاثر ہو رہی ہیں، کہیں کشمیر کے مظلوم انصاف کے منتظر ہیں، اور کہیں شام، یمن، سوڈان، برما اور دیگر علاقوں میں مسلمان جنگ، ظلم، بے گھری اور مختلف مصائب کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ حالات ہر صاحبِ ایمان اور صاحبِ شعور کے دل میں ایک اہم سوال پیدا کرتے ہیں:
کیا ہمیں واقعی امت کا درد ہے، یا ہمارا تعلق امت کے مسائل سے صرف سوشل میڈیا کے تبصروں تک محدود ہو گیا ہے؟
آج سوشل میڈیا کے دور میں کسی سانحے پر چند جملے لکھ دینا، ایک تصویر یا ویڈیو شیئر کر دینا اور جذباتی تبصرہ کر دینا بہت آسان ہو گیا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہی امت کی خیرخواہی کا مکمل حق ہے؟
کیا ہماری ذمہ داری صرف افسوس کا اظہار کرنا ہے، یا پھر اپنے دائرۂ اختیار میں امت کے لیے کچھ کرنے کی کوشش بھی ہماری ذمہ داری ہے؟
اسلام اور امت کی باہمی اخوت
اسلام مسلمانوں کو صرف ایک عقیدے سے نہیں جوڑتا بلکہ انہیں محبت، اخوت، ہمدردی اور ذمہ داری کے مضبوط رشتے میں باندھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾
ترجمہ:
"بے شک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔”
(سورۂ الحجرات، آیت: 10)
یہ مختصر مگر عظیم آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک مسلمان کا تعلق دوسرے مسلمان سے محض رسمی نہیں ہے۔ ایمان کا رشتہ ہمیں ایک دوسرے کے دکھ، تکلیف اور مشکلات سے جوڑتا ہے۔
جب کوئی بھائی تکلیف میں ہو تو صرف افسوس کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ جہاں تک ممکن ہو اس کے لیے دعا، مدد، تعاون اور خیرخواہی کا جذبہ بھی ہونا چاہیے۔
امت کا درد صرف الفاظ سے نہیں بلکہ دل کی سچی کیفیت اور عملی ذمہ داری سے ظاہر ہوتا ہے۔
مومن ایک جسم کی مانند ہیں
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مؤمنوں کی مثال آپس میں محبت، رحمت اور شفقت کے معاملے میں ایک جسم کی طرح ہے، جب جسم کا ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار کے ذریعے اس کے درد میں شریک ہو جاتا ہے۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 6586)
یہ حدیثِ مبارکہ امت کے باہمی تعلق کی ایک نہایت گہری تصویر پیش کرتی ہے۔
انسانی جسم کا کوئی حصہ زخمی ہو تو پورا جسم اس کے اثر کو محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح ایک سچا مسلمان اپنے بھائی کی تکلیف سے بے تعلق نہیں رہ سکتا۔
یہاں ہمیں اپنے آپ سے ایک اہم سوال کرنا چاہیے:
اگر امت واقعی ایک جسم کی مانند ہے تو کیا ہم اس جسم کے زخموں کو محسوس بھی کرتے ہیں؟
یا ہم صرف خبریں دیکھتے ہیں، چند جذباتی الفاظ لکھتے ہیں، کچھ دیر افسوس کرتے ہیں اور پھر اپنی معمول کی زندگی میں اس طرح واپس چلے جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو؟
امت کا درد صرف جذبات نہیں، ذمہ داری بھی ہے
امت سے محبت کا مطلب صرف جذباتی نعرے لگانا نہیں ہے۔
حقیقی خیرخواہی یہ ہے کہ انسان اپنے دائرۂ اختیار میں امت کی بہتری کے لیے کردار ادا کرے۔
ہر شخص کی صلاحیت اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔ کوئی مالی طور پر مدد کر سکتا ہے، کوئی علم کے ذریعے خدمت کر سکتا ہے، کوئی نوجوانوں کی تربیت کر سکتا ہے، کوئی دین کی صحیح تعلیم عام کر سکتا ہے اور کوئی اپنی دعا کو اخلاص کے ساتھ امت کے لیے وقف کر سکتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ:
"میں اکیلا پوری امت کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟”
بلکہ سوال یہ ہے:
"میں اپنی استطاعت کے مطابق کیا کر رہا ہوں؟”
ایک شخص کا اخلاص کے ساتھ کیا گیا چھوٹا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑی اہمیت رکھ سکتا ہے۔
صرف تنقید نہیں، اصلاح بھی ضروری ہے
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم مسائل پر گفتگو تو بہت کرتے ہیں، لیکن اصلاح کے لیے عملی کوشش نسبتاً کم کرتے ہیں۔
ہم دوسروں کی غلطیوں پر لمبی بحث کر سکتے ہیں، مختلف گروہوں پر تنقید کر سکتے ہیں اور اختلافات کو بڑھا سکتے ہیں، مگر کبھی کبھی اسی دوران اصل مسائل ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
امت پہلے ہی بے شمار مشکلات سے گزر رہی ہے۔
ایسے وقت میں ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہمارے الفاظ امت کو جوڑ رہے ہیں یا مزید تقسیم کر رہے ہیں؟
کیا ہماری گفتگو شعور پیدا کر رہی ہے یا صرف جذبات بھڑکا رہی ہے؟
کیا ہم صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں، یا ان کے حل اور اصلاح کی طرف بھی رہنمائی کرتے ہیں؟
امت کو آج ایسے افراد کی ضرورت ہے جو:
- صرف شور نہ کریں بلکہ شعور پیدا کریں۔
- نفرت کو بڑھانے کے بجائے اخوت کو فروغ دیں۔
- صرف تنقید نہ کریں بلکہ اصلاح کا راستہ بھی دکھائیں۔
- صرف دوسروں سے مطالبہ نہ کریں بلکہ اپنی ذمہ داری بھی ادا کریں۔
ہم امت کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
ہر انسان اپنے حالات اور صلاحیت کے مطابق امت کی خدمت میں حصہ لے سکتا ہے۔
اگر آپ مالی طور پر مدد کر سکتے ہیں تو مستحق اور قابلِ اعتماد ذرائع کے ذریعے مدد کریں۔
اگر آپ علم رکھتے ہیں تو اسے خیر اور اصلاح کے لیے استعمال کریں۔
اگر آپ استاد ہیں تو نئی نسل کی تربیت کریں۔
اگر آپ والدین ہیں تو اپنی اولاد کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں امت کی ذمہ داری اور مسلمانوں کے باہمی حقوق کا شعور بھی دیں۔
اگر آپ کسی شعبے میں مہارت رکھتے ہیں تو اپنی صلاحیت کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔
اور اگر آپ کسی عملی مدد کی استطاعت نہیں رکھتے تو کم از کم اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا کریں۔
دعا بھی ایک عظیم تعلق ہے، بشرطیکہ وہ صرف الفاظ نہ ہو بلکہ دل کی سچی کیفیت ہو۔
اپنی اولاد میں امت کا شعور پیدا کریں
آج کی نئی نسل دنیا بھر کے واقعات اپنی موبائل اسکرین پر دیکھتی ہے۔
اگر ہم انہیں صحیح شعور نہ دیں تو وہ آہستہ آہستہ دوسروں کے دکھوں کو صرف خبریں سمجھنے لگیں گے۔
ضروری ہے کہ ہم اپنی اولاد کو سکھائیں کہ مسلمان صرف ایک قوم یا ملک تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ایمان کے رشتے سے پوری امت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔
انہیں ہمدردی سکھائیں۔
انہیں دعا کی اہمیت بتائیں۔
انہیں خدمتِ خلق کا جذبہ دیں۔
انہیں علم، کردار اور ذمہ داری کے ذریعے امت کے لیے مفید بننے کی تربیت دیں۔
ہمیں انہیں صرف خبروں کے تماشائی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور باکردار امت کے افراد بنانا ہے۔
اپنے دل سے ایک سوال کریں
ہر مسلمان کو کبھی نہ کبھی تنہائی میں اپنے دل سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے:
کیا میرا تعلق امت سے صرف تبصروں تک محدود ہے؟
یا
کیا میں واقعی امت کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہوں؟
اگر امت کا درد واقعی ہمارے دلوں میں زندہ ہو جائے تو صرف ہماری گفتگو نہیں بلکہ ہماری ترجیحات بھی بدل جائیں گی۔
ہماری دعائیں زیادہ سچی ہوں گی۔
ہمارا کردار بہتر ہوگا۔
ہم علم حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
ہم اپنی نئی نسل کی اصلاح پر توجہ دیں گے۔
ہم اپنی صلاحیتوں کو خیر کے لیے استعمال کریں گے۔
اور ہم اختلافات کے باوجود امت کی بہتری اور بھلائی کے لیے سوچنا سیکھیں گے۔
اختتامی کلمات
امت کا درد صرف کسی سانحے پر چند الفاظ لکھ دینے کا نام نہیں۔
یہ ایک زندہ احساس ہے، جو انسان کو دعا، خیرخواہی، خدمت، اصلاح اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اظہارِ ہمدردی اپنی جگہ مفید ہو سکتا ہے، لیکن حقیقی تبدیلی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہمارے الفاظ کے ساتھ ہمارے اعمال بھی شامل ہو جائیں۔
آئیے! ہم اپنے تعلق کو امتِ مسلمہ کے مسائل سے صرف خبروں، پوسٹس اور تبصروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے دائرۂ اختیار میں جو کچھ بھی خیر کر سکتے ہیں، اسے اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کریں۔
کیونکہ امت کو آج صرف بولنے والوں کی نہیں بلکہ درد محسوس کرنے والوں، شعور پیدا کرنے والوں اور خاموشی کے ساتھ عمل کرنے والوں کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں امتِ مسلمہ کا سچا درد عطا فرمائے، اخلاص کے ساتھ اس کی خدمت کرنے کی توفیق دے، ہمارے دلوں میں باہمی محبت اور اخوت پیدا فرمائے، اور ہمیں اپنے دین کی صحیح نمائندگی کرنے والا بنائے۔
آمین۔


