مصروفیت کے باوجود بے مقصد زندگی

یہ مضمون پڑھیں :English|اردو|العربية
A-Busy-Life-Without-a-Purpose

انسان کی زندگی میں مصروف رہنا ہمیشہ کامیابی کی علامت نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ صبح سے رات تک مختلف کاموں میں مصروف رہتے ہیں، لیکن جب وہ تنہائی میں اپنے دل سے یہ سوال کرتے ہیں کہ "میں آخر کر کیا رہا ہوں؟” تو بعض اوقات اس کا جواب خاموشی کی صورت میں ملتا ہے۔

آج کا انسان وقت کی کمی کا شکوہ تو بہت کرتا ہے، مگر مقصد کی کمی کو محسوس نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ ظاہری ترقی کے باوجود سکون ناپید ہے، آسائشیں بڑھنے کے باوجود دل بے چین ہیں، اور مصروفیات میں اضافہ ہونے کے باوجود زندگی میں اطمینان کم ہوتا جا رہا ہے۔

قرآنِ کریم انسان کو محض مصروف رہنے کا نہیں بلکہ مقصد کے ساتھ زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے۔


زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾

ترجمہ:

"اور میں نے جن اور آدمی اسی لیے بنائے کہ میری عبادت کریں۔”

(سورۃ الذاریات، آیت: 56، پارہ: 27)

یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ انسان کی تخلیق کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت، اطاعت اور رضا حاصل کرنا ہے۔ اگر زندگی اس بنیادی مقصد سے خالی ہو جائے تو پھر دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی بھی انسان کو اندرونی سکون نہیں دے سکتی۔

انسان کے پاس دولت ہو، شہرت ہو، مصروف کاروبار ہو اور ہر قسم کی سہولت موجود ہو، لیکن اگر اس کا تعلق اپنے رب سے کمزور ہو جائے تو دل کی بے چینی باقی رہ سکتی ہے۔


مصروف زندگی، مگر خالی دل

آج بہت سے لوگوں کی زندگی ایک مسلسل دوڑ بن چکی ہے۔

صبح دفتر، دن بھر کاروبار، شام مختلف ذمہ داریوں میں، اور رات موبائل، سوشل میڈیا اور غیر ضروری مصروفیات میں گزر جاتی ہے۔

بظاہر انسان ہر وقت مصروف ہے، لیکن اس کی روح خالی، دل بے چین اور فکر منتشر ہے۔

اصل مسئلہ مصروف ہونا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کس چیز میں مصروف ہیں اور ہماری مصروفیت کا مقصد کیا ہے۔

اگر مصروفیت انسان کو اللہ تعالیٰ سے قریب کر رہی ہے، اس کے کردار کو بہتر بنا رہی ہے، مخلوق کے لیے فائدہ مند بنا رہی ہے اور آخرت کی تیاری میں مدد دے رہی ہے تو یہی مصروفیت باعثِ برکت ہے۔

لیکن اگر مصروفیت انسان کو اپنے رب سے غافل کر دے، نماز اور عبادت سے دور کر دے اور زندگی کا قیمتی وقت بے مقصد کاموں میں ختم کر دے تو یہی مصروفیت ایک آزمائش بن سکتی ہے۔


اللہ کی عبادت کے لیے وقت نکالیں

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اے ابنِ آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرے سینے کو غنا سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور کر دوں گا، اور اگر تو ایسا نہ کرے گا تو میں تیرے ہاتھ مصروفیات سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا۔”

(جامع ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع، حدیث: 2474)

یہ حدیث ہمیں ایک اہم حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے: انسان کے پاس مصروفیات ختم نہیں ہوں گی۔

اگر وہ اللہ تعالیٰ کے لیے وقت نہیں نکالے گا تو دنیا کے کام اس کے وقت کو بھر دیں گے۔ ایک کام ختم ہوگا تو دوسرا سامنے آ جائے گا، ایک ذمہ داری پوری ہوگی تو نئی ذمہ داری پیدا ہو جائے گی۔

اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور آخرت کی تیاری کو ترجیح دے۔


کیا ہم بے مقصد پیدا کیے گئے ہیں؟

اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿اَفَحَسِبۡتُمۡ اَنَّمَا خَلَقۡنٰکُمۡ عَبَثًا وَّاَنَّکُمۡ اِلَیۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ﴾

ترجمہ:

"تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟”

(سورۃ المؤمنون، آیت: 115، پارہ: 18)

یہ آیت انسان کو جھنجھوڑتی ہے کہ اس کی زندگی کھیل، تماشے، بے مقصد مصروفیات، آوارہ صحبتوں اور فضول مشغولیات کے لیے نہیں دی گئی۔

ہم ایک عظیم امتحان کے لیے دنیا میں بھیجے گئے ہیں، اور ایک دن ہمیں اپنے رب کی بارگاہ میں واپس جانا ہے۔

اس لیے سوال یہ ہونا چاہیے:

میرا وقت کہاں خرچ ہو رہا ہے؟

میری زندگی کس مقصد کے لیے گزر رہی ہے؟

کیا میری مصروفیات مجھے اپنے رب کے قریب کر رہی ہیں؟


صحت اور فراغت: دو بڑی نعمتیں

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فراغت۔”

(صحیح البخاری، حدیث: 6412)

یہ حدیث ہمیں وقت اور صحت کی اہمیت سمجھاتی ہے۔ انسان اکثر ان دونوں نعمتوں کی قدر اس وقت کرتا ہے جب وہ اس کے پاس باقی نہیں رہتیں۔

صحت ہو تو انسان نیک اعمال کر سکتا ہے، محنت کر سکتا ہے، علم حاصل کر سکتا ہے اور دوسروں کے لیے فائدہ مند بن سکتا ہے۔

وقت ہو تو انسان اپنی اصلاح، عبادت اور آخرت کی تیاری کر سکتا ہے۔

لیکن افسوس! بہت سے لوگ ان نعمتوں کو بے مقصد مصروفیات میں ضائع کر دیتے ہیں۔


زندگی کے ہر لمحے کا حساب

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"قیامت کے دن کسی بندے کے دونوں پاؤں اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کن کاموں میں گزارا، اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کتنا عمل کیا، اور اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں کھپایا۔”

(جامع ترمذی، ابواب صفة القيامة والرقائق والورع، حدیث: 2417)

یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ ایک امانت ہے۔

ہماری عمر، ہماری صحت، ہمارا علم، ہماری دولت اور ہماری صلاحیتیں سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں، اور ایک دن ان کے بارے میں سوال ہوگا۔

اگر ہماری پوری زندگی صرف دنیاوی مصروفیات میں گزر گئی اور ہم نے اپنی آخرت کی تیاری نہ کی تو یہ ایک بہت بڑا خسارہ ہوگا۔


اصل کامیابی زیادہ مصروف ہونے میں نہیں

اصل کامیاب انسان وہ نہیں جو سب سے زیادہ مصروف ہو، بلکہ وہ ہے جو سب سے زیادہ با مقصد ہو۔

ایک مزدور اگر حلال روزی کمانے اور اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کی نیت سے محنت کرتا ہے تو اس کی محنت بھی نیکی اور عبادت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

ایک تاجر اگر دیانت داری، حلال کمائی اور مخلوق کی بھلائی کے ساتھ کاروبار کرے تو اس کا کاروبار بھی خیر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اسی طرح ایک ملازم اگر اپنی ذمہ داری کو امانت سمجھ کر ادا کرے تو اس کی ملازمت بھی اس کے لیے باعثِ اجر ہو سکتی ہے۔

لیکن اگر انسان کے پاس بڑی دولت، شہرت اور کامیابی ہو، مگر وہ اپنی زندگی کو صرف نمود و نمائش، غفلت اور دنیا کی دوڑ میں ضائع کر دے تو اس کی مصروفیت اسے حقیقی کامیابی نہیں دے سکتی۔


اپنی زندگی کا جائزہ لیجیے

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی کا جائزہ لیں۔

اپنے آپ سے چند سوال کریں:

  • کیا میری مصروفیات مجھے اللہ تعالیٰ کے قریب کر رہی ہیں؟
  • کیا میں اپنی نماز اور عبادت کے لیے مناسب وقت نکالتا ہوں؟
  • کیا میرا علم میری اصلاح اور دوسروں کی بھلائی کا ذریعہ بن رہا ہے؟
  • کیا میری ملازمت، کاروبار اور محنت حلال اور فائدہ مند مقصد کے لیے ہے؟
  • کیا میں اپنے والدین، اہلِ خانہ اور دیگر لوگوں کے حقوق ادا کر رہا ہوں؟
  • کیا میں اپنی آخرت کی تیاری کے لیے بھی وقت نکالتا ہوں؟

اگر ان سوالات کے جواب ہمیں اپنی زندگی بدلنے کی ضرورت کا احساس دلائیں تو ہمیں اپنے راستے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔


مصروفیت کو مقصد سے جوڑ دیجیے

مصروفیت اگر مقصدِ حیات سے جڑی ہو تو عبادت بن جاتی ہے۔

لیکن اگر وہ مقصد سے خالی ہو تو انسان کو صرف تھکا دیتی ہے، اندر سے خالی کر دیتی ہے اور بعض اوقات آخرکار پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں چھوڑتی۔

اس لیے ہمیں اپنی زندگی کو صرف مصروف نہیں بلکہ بامقصد بنانا چاہیے۔

اپنے وقت کو اللہ تعالیٰ کی رضا، دین کی خدمت، حلال روزی، والدین کی خدمت، اہلِ خانہ کے حقوق، مخلوق کی بھلائی اور اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں سکون اور آخرت میں حقیقی کامیابی عطا کرتا ہے۔


اختتامی کلمات

زندگی کی خوبصورتی زیادہ کاموں میں نہیں بلکہ صحیح مقصد کے ساتھ زندگی گزارنے میں ہے۔

دنیا کی مصروفیات کبھی ختم نہیں ہوں گی، لیکن ہماری زندگی کا وقت ضرور ختم ہو جائے گا۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے قیمتی وقت کو پہچانیں، اپنی مصروفیات کا جائزہ لیں اور اپنی زندگی کو اس مقصد کے مطابق ڈھالیں جس کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ہے۔

صرف مصروف مت رہیے، بامقصد رہیے۔

اللہ کریم ہمیں زندگی کے اصل مقصد کو سمجھنے، اپنے وقت کی قدر کرنے، اپنی مصروفیات کو خیر اور بھلائی کا ذریعہ بنانے اور اپنی زندگی کو اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے تیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہِ النبی الامین ﷺ۔

اوپر تک سکرول کریں۔