حقوق کا شور، فرائض کی خاموشی

یہ مضمون پڑھیں :English|اردو|العربية

ایک بہتر معاشرے کی بنیاد حقوق کے مطالبے سے نہیں، فرائض کی ادائیگی سے بنتی ہے

معاشرے کی تعمیر صرف قوانین اور ضابطوں سے نہیں ہوتی، بلکہ کردار، ذمہ داری، دیانت داری اور احساسِ فرض سے ہوتی ہے۔ جب معاشرے کے افراد اپنے فرائض کو اخلاص کے ساتھ ادا کرتے ہیں تو دوسروں کے حقوق خود بخود محفوظ ہونے لگتے ہیں۔ لیکن جب ہر شخص صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کرے اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائے تو معاشرہ بے چینی، ناانصافی اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے موجودہ معاشرے میں یہی صورتِ حال بڑی حد تک نظر آتی ہے۔ ہر طرف اپنے حقوق کی بات ہو رہی ہے، لیکن فرائض کی ادائیگی کا ذکر کم ہی سنائی دیتا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ انصاف ہو، لیکن بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ خود دوسروں کے ساتھ کتنا انصاف کر رہے ہیں۔


اسلام: حقوق اور فرائض میں توازن کا دین

اسلام ایک متوازن دین ہے۔ اس نے انسان کو جہاں مختلف حقوق عطا کیے ہیں، وہیں ان حقوق کے ساتھ ذمہ داریاں اور فرائض بھی مقرر کیے ہیں۔

قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرت کی بنیاد عدل، احسان، امانت، ذمہ داری اور خدمت پر قائم ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ﴾

ترجمہ:

"بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔”

(سورۃ النحل، آیت: 90)

عدل کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ انسان اپنا حق حاصل کرے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کے حقوق ادا کرے۔ یہی وہ توازن ہے جو ایک مضبوط اور پُرامن معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔


ہر شخص اپنے حق کا مطالبہ کیوں کرتا ہے؟

اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو تقریباً ہر طبقہ کسی نہ کسی شکایت میں مبتلا نظر آتا ہے۔

والدین کہتے ہیں کہ اولاد فرمانبردار نہیں رہی، جبکہ اولاد کا شکوہ ہے کہ والدین ان کی ضروریات اور جذبات کو نہیں سمجھتے۔

شوہر بیوی سے شکوہ کرتا ہے اور بیوی شوہر سے۔

استاد طالب علم سے ناراض ہے اور طالب علم استاد سے۔

ملازم مالک کو ظالم سمجھتا ہے، جبکہ مالک ملازم کو بے ایمان اور غیر ذمہ دار قرار دیتا ہے۔

گویا ہر شخص اپنے حقوق کا محافظ بن گیا ہے، لیکن اپنے فرائض کا نگہبان بننے کے لیے بہت کم لوگ تیار ہیں۔

اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ معاشرے میں حقوق کا شعور بڑھ گیا ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ حقوق کے ساتھ فرائض کا شعور اسی رفتار سے نہیں بڑھا۔


ہر انسان اپنے دائرۂ اختیار میں ذمہ دار ہے

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

ترجمہ:

"تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”

(صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ، حدیث: 893)

یہ حدیث ہمیں ایک بنیادی اصول سکھاتی ہے کہ انسان کی اصل عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا جانتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو کس قدر دیانت داری سے ادا کرتا ہے۔

ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم دوسروں سے کیا توقع رکھتے ہیں، اور خود ان کے لیے کیا کر رہے ہیں؟


قیادت اور ذمہ داری: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مثال

اسلامی تاریخ ذمہ داری اور احساسِ فرض کی روشن مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ خلفائے راشدین نے حکومت اور اقتدار کو ذاتی اعزاز نہیں بلکہ ایک عظیم امانت سمجھا۔

حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی اس احساسِ ذمہ داری کی نمایاں مثال ہے۔ وہ رعایا کے حالات سے باخبر رہنے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کے لیے خود نگرانی کرتے تھے۔

یہی احساسِ ذمہ داری تھا جس نے ان کے دورِ خلافت کو عدل و انصاف کی ایک روشن مثال بنا دیا۔

آج بھی اگر صاحبِ اختیار افراد اپنے عہدے کو مراعات کے بجائے امانت سمجھیں اور اپنے فرائض کو مقدم رکھیں تو معاشرے میں انصاف، اعتماد اور امن کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔


گھر کا سکون: حقوق سے پہلے فرائض

گھریلو زندگی بھی اسی اصول پر قائم ہے۔

اگر شوہر اپنی ذمہ داریوں کو عبادت سمجھ کر ادا کرے، حسنِ اخلاق سے پیش آئے اور اہلِ خانہ کے حقوق کا خیال رکھے تو گھر محبت اور سکون کا مرکز بن سکتا ہے۔

اسی طرح اگر بیوی محبت، وفاداری، خیرخواہی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرے تو گھر میں رحمت اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔

لیکن جب شوہر اور بیوی دونوں صرف اپنے حقوق گنوانا شروع کر دیں اور اپنی ذمہ داریوں کو بھول جائیں تو محبت کی جگہ شکایت، تعاون کی جگہ مطالبہ اور سکون کی جگہ بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔

خوشحال گھر وہ نہیں جہاں ہر شخص اپنے حقوق گنواتا رہے، بلکہ وہ ہے جہاں ہر فرد دوسرے کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے۔


والدین اور اولاد: دونوں کی ذمہ داریاں

والدین اور اولاد کا تعلق بھی حقوق اور فرائض کے اسی توازن کا تقاضا کرتا ہے۔

والدین اگر صرف اولاد سے اطاعت کا مطالبہ کریں، لیکن ان کی تربیت، شفقت، توجہ اور دینی رہنمائی میں کوتاہی کریں تو شکایت مکمل نہیں رہتی۔

اسی طرح اولاد اگر والدین کی خدمت، ادب اور احترام کو نظر انداز کرکے صرف آزادی، سہولت اور اپنی خواہشات کا مطالبہ کرے تو خاندانی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔

ایک مضبوط خاندان اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب والدین اپنی ذمہ داری نبھائیں اور اولاد بھی اپنے فرائض کو پہچانے۔


کاروباری زندگی میں فرائض کی اہمیت

یہ اصول کاروبار اور ملازمت کے میدان میں بھی اتنا ہی اہم ہے۔

تاجر اچھا منافع چاہتا ہے، لیکن اگر وہ دیانت داری کو نظر انداز کر دے تو اس کا مطالبہ بے معنی ہو جاتا ہے۔

خریدار معیاری چیز چاہتا ہے، لیکن اگر وہ خود دھوکہ دہی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے تو وہ بھی اسی مسئلے کا حصہ بن جاتا ہے۔

ملازم پوری تنخواہ کا مطالبہ کرتا ہے، لیکن اگر وہ اپنے اوقاتِ کار میں خیانت کرے اور اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو اس کا رویہ بھی درست نہیں۔

اسی طرح بعض مالکان ملازمین سے مکمل محنت اور وقت کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن ان کی جائز ضروریات اور حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اعتماد ختم ہونے لگتا ہے۔

اور جس معاشرے، ادارے یا کاروبار سے اعتماد ختم ہو جائے، وہاں دیرپا ترقی ممکن نہیں رہتی۔


سوشل میڈیا اور احساسِ ذمہ داری

آج سوشل میڈیا نے بھی حقوق اور فرائض کے اس مسئلے کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔

ہم دوسروں کی غلطیوں پر لمبی تحریریں لکھتے ہیں، لیکن اپنی اصلاح کے بارے میں خاموش رہتے ہیں۔

ہم دوسروں کے کردار کا احتساب کرتے ہیں، لیکن اپنے کردار کا محاسبہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

ہر شخص خود کو مظلوم ثابت کرنے میں مصروف ہے، جبکہ اپنی ذات سے اصلاح کا آغاز کرنے والے لوگ کم دکھائی دیتے ہیں۔

حالانکہ حقیقی اصلاحِ معاشرہ ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے۔

اگر ہم دوسروں سے احترام چاہتے ہیں تو ہمیں بھی احترام دینا ہوگا۔

اگر ہم انصاف چاہتے ہیں تو ہمیں بھی انصاف کرنا ہوگا۔

اگر ہم دیانت دار معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی دیانت سے آغاز کرنا ہوگا۔


حقوق اور فرائض ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں

حقیقت یہ ہے کہ حقوق اور فرائض ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔

اگر ہر شخص اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرے تو دوسروں کے حقوق خود بخود محفوظ ہونے لگیں گے۔

ایک استاد اپنا فرض ادا کرے تو طالب علم کا حق محفوظ ہوگا۔

ایک طالب علم اپنی ذمہ داری پوری کرے تو استاد کا حق محفوظ ہوگا۔

والدین اپنی ذمہ داری نبھائیں تو اولاد کا حق محفوظ ہوگا۔

اولاد اپنے فرائض ادا کرے تو والدین کا حق محفوظ ہوگا۔

مالک انصاف کرے تو ملازم کا حق محفوظ ہوگا، اور ملازم دیانت داری سے کام کرے تو مالک کا حق محفوظ ہوگا۔

اسی باہمی ذمہ داری سے معاشرے میں اعتماد، انصاف اور استحکام پیدا ہوتا ہے۔


نئی نسل کو حقوق کے ساتھ فرائض بھی سکھائیں

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے گھروں، تعلیمی اداروں، مساجد اور سماجی حلقوں میں صرف حقوق کا شعور پیدا نہ کیا جائے بلکہ احساسِ فرض بھی بیدار کیا جائے۔

نئی نسل کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ کامیاب انسان وہ نہیں جو صرف اپنا حق لینا جانتا ہو، بلکہ وہ ہے جو دوسروں کا حق ادا کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔

اسلامی کردار یہی ہے کہ انسان اپنے اختیار کو ذمہ داری سمجھے، اپنے عہد کو امانت سمجھے اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری جانے۔


معاشرتی تبدیلی کہاں سے شروع ہوگی؟

اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں انصاف قائم ہو، خاندان مضبوط ہوں، اداروں میں دیانت داری پیدا ہو اور عوام و حکمران کے درمیان اعتماد قائم ہو تو ہمیں صرف نعروں پر نہیں بلکہ کردار اور عملی ذمہ داری پر توجہ دینا ہوگی۔

حقوق کا شور وقتی جذبات پیدا کر سکتا ہے، لیکن فرائض کی خاموش ادائیگی معاشروں کی بنیاد مضبوط کرتی ہے۔

ہمیں دوسروں سے یہ پوچھنے سے پہلے کہ:

"میرا حق کہاں ہے؟”

اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے:

"جو فرض میرے ذمے ہے، کیا میں اسے پورا کر رہا ہوں؟”

شاید معاشرتی اصلاح کی ابتدا اسی ایک سوال سے ہو سکتی ہے۔


اختتامی کلمات

ایک بہتر معاشرہ صرف اس وقت وجود میں آتا ہے جب افراد اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں۔

اپنا حق مانگنا غلط نہیں، لیکن دوسروں کا حق ادا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انصاف صرف اپنے لیے انصاف حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کے ساتھ انصاف کرنے کا بھی نام ہے۔

اگر ہم اپنے گھروں، کاروبار، اداروں اور معاشرتی تعلقات میں اپنے فرائض کو دیانت داری سے ادا کرنا شروع کر دیں تو بہت سے ایسے مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں جنہیں ہم آج صرف قوانین اور نعروں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حقوق کا شور شاید کچھ دیر کے لیے سنائی دے، لیکن فرائض کی خاموش ادائیگی آنے والی نسلوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے تمام فرائض کو سمجھنے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے، عدل و احسان اختیار کرنے اور اپنے کردار کے ذریعے معاشرے کی اصلاح میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔

اوپر تک سکرول کریں۔