خود اعتمادی یا خود پرستی؟

یہ مضمون پڑھیں :English|اردو|العربية

زندگی کے سفر میں انسان کو مختلف صفات اور کیفیتوں کا سامنا ہوتا ہے، لیکن بعض صفات ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر ایک جیسی محسوس ہوتی ہیں، جبکہ حقیقت میں ان کے درمیان بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ خود اعتمادی اور خود پرستی بھی ایسی ہی دو کیفیتیں ہیں۔

ایک کیفیت انسان کے قدموں میں استقامت پیدا کرتی ہے، اس کے حوصلے کو بلند کرتی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کو درست انداز میں استعمال کرنے کا شعور دیتی ہے۔ اس کیفیت کا نام خود اعتمادی ہے۔

جبکہ دوسری کیفیت انسان کو اپنی ذات کے حصار میں قید کر دیتی ہے۔ وہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگتا ہے، نصیحت قبول کرنا مشکل محسوس کرتا ہے اور آہستہ آہستہ تکبر اور غرور کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ اس کیفیت کا نام خود پرستی ہے۔

بدقسمتی سے آج کے دور میں ان دونوں کے درمیان فرق دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ بعض لوگ خود پرستی کو بھی خود اعتمادی کا خوبصورت نام دے کر پیش کرتے ہیں، حالانکہ دونوں کی حقیقت، راستے اور نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔


خود اعتمادی کیا ہے؟

خود اعتمادی دراصل اپنی صلاحیتوں پر بھروسا رکھتے ہوئے انہیں مثبت انداز میں استعمال کرنے کا نام ہے، لیکن ایک مسلمان کی خود اعتمادی اپنے رب سے بے نیازی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ آگے بڑھنے کا نام ہے۔

خود اعتماد انسان جانتا ہے کہ اس کے پاس جو علم، صلاحیت، کامیابی اور عزت ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہے۔ وہ اپنی محنت کرتا ہے، اپنی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے اور کامیابی کے لیے کوشش کرتا ہے، مگر اپنی کامیابی کو صرف اپنی ذات کا کمال نہیں سمجھتا۔

کامیابی ملے تو وہ شکر ادا کرتا ہے، اور اگر ناکامی کا سامنا ہو تو مایوس ہو کر ہمت نہیں ہارتا بلکہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لیتا اور اپنی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔

اس کی زبان پر غرور کے بجائے شکر ہوتا ہے، اور اس کے دل میں دوسروں کے لیے نفرت کے بجائے خیرخواہی ہوتی ہے۔


خود پرستی کیا ہے؟

اس کے برعکس خود پرستی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان اپنی ذات ہی کو سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔

اسے اپنی عقل، اپنی رائے، اپنی صلاحیتوں اور اپنی کامیابیوں پر ایسا ناز ہو جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی خوبیوں کو دیکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ صرف اس کی رائے درست ہے اور دوسرے لوگ اس سے کم سمجھ رکھتے ہیں۔

آہستہ آہستہ تعریف اس کی ضرورت بن جاتی ہے اور تنقید اسے دشمنی محسوس ہونے لگتی ہے۔

وہ اپنی تعریف سن کر خوش ہوتا ہے، لیکن اپنی اصلاح کی بات اسے ناگوار گزرتی ہے۔ نصیحت کو قبول کرنے کے بجائے وہ نصیحت کرنے والے ہی کو حقارت سے دیکھنے لگتا ہے۔

خود پرست انسان درحقیقت اپنی ذات کے گرد ایک ایسی دیوار کھڑی کر لیتا ہے جس کے اندر صرف "میں” باقی رہ جاتا ہے۔


عزت کا راستہ عاجزی ہے

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن لوگوں نے عاجزی، انکساری اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو اپنا شعار بنایا، اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت عطا فرمائی۔

ان کے کردار، خدمات اور قربانیوں نے انہیں ایسی عزت دی کہ آج بھی لوگ انہیں احترام اور اچھے الفاظ کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

ہمارے سامنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اور اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی روشن مثالیں موجود ہیں۔ ان عظیم ہستیوں نے اپنی عظمت کو اپنی ذات کی بڑائی میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، دین کی خدمت، عاجزی اور مخلوق کی بھلائی میں تلاش کیا۔

اس کے برعکس جن لوگوں نے تکبر، غرور اور خود پرستی کو اختیار کیا، ان کا انجام عبرت کی داستان بن گیا۔ فرعون، نمرود، ابو جہل اور ابو لہب جیسے کردار اس بات کی مثال ہیں کہ طاقت، دولت اور ظاہری شان و شوکت انسان کو حقیقی عظمت نہیں دے سکتی۔

علم، دولت، شہرت اور طاقت انسان کو بڑا نہیں بناتے، بلکہ اس کا کردار، تقویٰ اور انکساری اسے حقیقی عظمت عطا کرتے ہیں۔


سوشل میڈیا اور خود پرستی کا نیا روپ

آج سوشل میڈیا کے دور میں خود پرستی نے ایک نیا انداز اختیار کر لیا ہے۔

پسندیدگیوں کی دوڑ، تعریف کے انتظار، اپنی ذات کی مسلسل نمائش اور دوسروں سے آگے نظر آنے کی خواہش نے بہت سے لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیا ہے کہ مقبولیت ہی کامیابی ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر مشہور شخص کامیاب نہیں ہوتا، اور ہر کم مشہور انسان ناکام نہیں ہوتا۔

حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ کتنے لوگ ہماری تعریف کرتے ہیں، کتنے لوگ ہماری تصاویر دیکھتے ہیں یا ہماری باتوں کو پسند کرتے ہیں۔ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی رضا حاصل کرے، اپنے اخلاق کو بہتر بنائے اور اپنی ذات کو معاشرے کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بنائے۔

اگر ہماری کامیابی کے ساتھ ہمارا شکر بڑھ رہا ہے، عاجزی بڑھ رہی ہے اور دوسروں کے لیے خیرخواہی پیدا ہو رہی ہے تو یہ اچھی علامت ہے۔

لیکن اگر ہماری مقبولیت ہمیں دوسروں کو حقیر سمجھنے پر آمادہ کر رہی ہے، تو ہمیں اپنے دل کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔


خود اعتمادی اور خود پرستی میں فرق

دونوں کے درمیان فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے:

خود اعتمادی انسان کو اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور آگے بڑھنے کی ہمت دیتی ہے، جبکہ خود پرستی انسان کو اپنی ذات کی تعریف میں مصروف کر دیتی ہے۔

خود اعتمادی انسان کو محنت کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ خود پرستی اسے صرف اپنی تعریف سننے کا عادی بنا دیتی ہے۔

خود اعتمادی دوسروں کے احترام کا درس دیتی ہے، جبکہ خود پرستی دوسروں کو حقیر سمجھنے کی بیماری پیدا کرتی ہے۔

خود اعتمادی اصلاح کو قبول کرتی ہے، جبکہ خود پرستی تنقید اور نصیحت کو برداشت نہیں کرتی۔

خود اعتمادی کا تعلق شکر، محنت اور توکل سے ہے، جبکہ خود پرستی کا تعلق غرور، تکبر اور اپنی ذات کی بڑائی سے ہے۔

ایک انسان کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ دوسری انسان کو تنہائی، غرور اور بالآخر ناکامی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔


اپنے دل کا محاسبہ کریں

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی شخصیت اور اپنے رویوں کا جائزہ لیں۔

ہم خود سے پوچھیں:

کیا ہماری کامیابیاں ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر رہی ہیں؟

کیا ہماری صلاحیتیں ہمیں دوسروں کے لیے فائدہ مند بنا رہی ہیں؟

کیا تعریف سن کر ہمارے اندر شکر پیدا ہوتا ہے یا غرور؟

کیا ہم اپنی غلطی تسلیم کر سکتے ہیں؟

کیا ہم کسی دوسرے کی خوبی کو دل سے قبول کر سکتے ہیں؟

اگر ہماری کامیابیاں ہمارے اندر عاجزی، شکر اور خیرخواہی پیدا کر رہی ہیں تو یہ صحت مند خود اعتمادی کی علامت ہے۔

لیکن اگر یہی کامیابیاں ہمیں مغرور، خود پسند اور دوسروں سے بے نیاز بنا رہی ہیں تو ہمیں فوراً اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، کیونکہ خود پرستی آہستہ آہستہ انسان کے کردار اور اعمال کی روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔


اختتامی کلمات

ایک مسلمان کو کمزور اور بے ہمت نہیں ہونا چاہیے۔ اسے اپنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کو پہچاننا چاہیے، محنت کرنی چاہیے، مشکلات کا مقابلہ کرنا چاہیے اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

لیکن اس اعتماد کے ساتھ یہ شعور بھی ضروری ہے کہ ہر صلاحیت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور ہر کامیابی اسی کے فضل سے حاصل ہوتی ہے۔

آئیے! ہم ایسی خود اعتمادی اختیار کریں جو توکل، شکر، محنت اور انکساری سے مزین ہو، اور ایسی ہر سوچ، عادت اور رویے سے بچیں جو ہمیں خود پرستی، غرور اور تکبر کی طرف لے جائے۔

کیونکہ حقیقی عظمت اپنی ذات کو بڑا سمجھنے میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے اور اس کی مخلوق کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنے میں ہے۔

یہی راستہ انسان کو دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی صلاحیتوں کو صحیح انداز میں استعمال کرنے، کامیابی پر شکر ادا کرنے، ناکامی میں صبر و استقامت اختیار کرنے، عاجزی و انکساری کو اپنانے اور خود پرستی و تکبر سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔

اوپر تک سکرول کریں۔