ہم اکثر اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ ہمیں یہ فکر ہوتی ہے کہ انہیں اچھی تعلیم ملے گی یا نہیں، وہ اچھی ملازمت حاصل کر سکیں گے یا نہیں، اور کیا وہ دنیاوی زندگی میں کامیاب ہو سکیں گے؟
لیکن ان تمام فکروں کے درمیان ایک سوال ایسا ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے:
اگر ہمارا بچہ دنیا میں کامیاب ہوگیا، لیکن دین سے دور ہوگیا، تو کیا یہ واقعی کامیابی ہے؟
آج آنے والی نسلوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ صرف غربت، بے روزگاری یا جدید ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ اصل خطرہ ایسی صحیح تربیت کے فقدان کا ہے جو بچے کے دل میں اللہ تعالیٰ، رسولِ اکرم ﷺ، قرآنِ کریم اور دینِ اسلام کی سچی محبت پیدا کرے۔
دنیاوی تعلیم، اچھی ملازمت اور مالی استحکام یقیناً اہم ہیں، لیکن ایک مسلمان کے لیے زندگی کی کامیابی صرف دنیا تک محدود نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا میں بھی درست راستے پر چلے اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل کرے۔
اولاد صرف ذمہ داری نہیں، ایک امانت ہے
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾
ترجمہ:
"اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔”
(سورۂ التحریم، پارہ 28، آیت 6)
اس آیتِ مبارکہ پر غور کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی ذات کی اصلاح اور حفاظت کا حکم نہیں دیا بلکہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کی ذمہ داری بھی عطا فرمائی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کو کھانا، لباس، مکان اور دنیاوی تعلیم فراہم کرنا نہیں ہے، بلکہ ان کے ایمان، عقائد، عبادات، اخلاق اور کردار کی حفاظت اور درست تربیت بھی ان کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
بچے ہماری سب سے بڑی امانت ہیں۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمارا بچہ کس ماحول میں پروان چڑھ رہا ہے، کیا دیکھ رہا ہے، کس کو سن رہا ہے، کن لوگوں کو اپنا آئیڈیل بنا رہا ہے اور کس قسم کی سوچ اس کے ذہن میں جگہ بنا رہی ہے۔
کیونکہ آج کی تربیت ہی کل کی شخصیت بناتی ہے۔
بچے کا ماحول اس کے مستقبل کو تشکیل دیتا ہے
بچپن انسان کی شخصیت کی بنیاد رکھنے کا زمانہ ہے۔ اس عمر میں جو چیزیں بچے کے دل و دماغ میں جگہ بناتی ہیں، وہ آہستہ آہستہ اس کے خیالات، عادات اور کردار کا حصہ بن جاتی ہیں۔
آج ایک بچہ موبائل اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے گھنٹوں مختلف قسم کا مواد دیکھ سکتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا کی شخصیات، فنکاروں اور دیگر مشہور افراد سے متاثر ہوتا ہے اور بسا اوقات انہیں اپنا آئیڈیل بنا لیتا ہے۔
دوسری طرف، بعض والدین اپنی مصروفیات کی وجہ سے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے اور ان کی سرگرمیوں کو سمجھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ہم بعض اوقات بچے کو موبائل دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسے مصروف کر دیا، لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس مصروفیت کے دوران اس کا ذہن کس چیز سے متاثر ہو رہا ہے؟
ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ مکمل طور پر نقصان دہ ہے اور نہ ہر صورت نقصان سے خالی۔ یہ علم، تعلیم اور خیر کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور غلط استعمال کی صورت میں نقصان کا سبب بھی۔
اصل سوال یہ ہے کہ:
کیا ہم اپنے بچوں کو صرف یہ سکھا رہے ہیں کہ موبائل کیسے استعمال کرنا ہے، یا یہ بھی سکھا رہے ہیں کہ اسے کس مقصد کے لیے اور کس حد تک استعمال کرنا چاہیے؟
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو رہنمائی دیں، مناسب نگرانی رکھیں اور ان میں صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔
دینی تربیت بچپن ہی سے شروع ہونی چاہیے
بچے کو نماز، قرآنِ کریم، سچائی، حیا، ادب اور بڑوں کے احترام کی تعلیم اس وقت تک مؤخر نہیں کرنی چاہیے جب وہ بڑا ہو جائے۔
تربیت کا آغاز بچپن سے ہونا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ”
ترجمہ:
"اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو۔”
(سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، حدیث: 495)
اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے دینی تربیت کو صرف بلوغت کے بعد شروع کرنے کا تصور نہیں دیا، بلکہ بچپن ہی سے عبادت اور نیکی کی عادت پیدا کرنے کی تعلیم دی ہے۔
اگر بچہ چھوٹی عمر سے نماز کے ماحول میں پروان چڑھے، قرآنِ کریم سے محبت پیدا کرے، سچ بولنا سیکھے اور بڑوں کا احترام کرنا اس کی عادت بن جائے تو یہی صفات آگے چل کر اس کی شخصیت کا مضبوط حصہ بن سکتی ہیں۔
بچوں کے عقائد کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟
آج کے دور میں صرف دنیاوی معلومات حاصل کر لینا کافی نہیں۔ بچوں کو اپنے دین اور بنیادی اسلامی عقائد سے بھی صحیح طور پر آگاہ کرنا ضروری ہے۔
انہیں محبت اور حکمت کے ساتھ بتایا جائے کہ:
اللہ تعالیٰ ایک ہے، وہ وحدہٗ لا شریک ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
انہیں حضورِ اکرم، نبیِ کریم ﷺ کی عظمت اور محبت سے آگاہ کیا جائے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ پر نبوت کا سلسلہ مکمل ہو چکا ہے۔
انہیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی عظمت، محبت اور بلند مرتبے سے بھی آگاہ کیا جائے، تاکہ ان کے دل میں اسلامی تاریخ اور مقدس شخصیات کے لیے ادب اور محبت پیدا ہو۔
صحیح عقیدہ صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ انسان کی پوری زندگی کی بنیاد ہے۔ اسی لیے بچوں کی دینی تربیت میں عقائد کی درست تعلیم کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اور اولاد کی تربیت
عرسِ اعلیٰ حضرت کی مناسبت سے یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اولاد کی اصلاح اور دینی تربیت کے مسئلے کو بڑی اہمیت دی۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے والدین کی ذمہ داریوں اور اولاد کے حقوق کے بارے میں ایک مستقل رسالہ:
"مَشْعَلَۃُ الْاِرْشَاد فِی حُقُوقِ الْاَوْلَاد”
تحریر فرمایا، جس میں اولاد کے حقوق اور والدین کی ذمہ داریوں کے بارے میں رہنمائی موجود ہے۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے بالغ اولاد کی اصلاح کے حوالے سے بھی اس بات کی وضاحت فرمائی کہ والدین اپنی استطاعت اور اصلاح کی امید کے مطابق اولاد کی دینی اصلاح کی ذمہ داری ادا کریں۔ یعنی جس دینی معاملے کی جو شرعی اہمیت ہے، اس کی اصلاح بھی اسی اہمیت کے مطابق ہوگی۔
(فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 370)
یہ تعلیم آج کے والدین کے لیے ایک اہم پیغام رکھتی ہے۔
ہم اپنے بچوں کے اسکول، یونیورسٹی، لباس، مستقبل اور کیریئر کے بارے میں فکر کرتے ہیں، لیکن ہمیں خود سے یہ بھی پوچھنا چاہیے:
کیا ہم ان کے ایمان، عقائد، نماز، اخلاق، حیا اور صحبت کی بھی اسی طرح فکر کرتے ہیں؟
صرف نصیحت نہیں، عملی نمونہ بھی ضروری ہے
بچے کانوں سے کم اور آنکھوں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
والدین جو کچھ کرتے ہیں، بچے اسے غور سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے تربیت صرف نصیحتوں سے مکمل نہیں ہوتی بلکہ والدین کے کردار سے بھی ہوتی ہے۔
اگر ایک والد نماز کے وقت اپنی دوسری مصروفیات میں مشغول رہے لیکن بچے کو صرف نماز کی تلقین کرے، تو بچے پر الفاظ سے زیادہ عمل کا اثر پڑے گا۔
اگر والدین بچے کو جھوٹ سے منع کریں لیکن خود روزمرہ معاملات میں جھوٹ بولیں، یا غیبت سے روکیں لیکن گھر میں دوسروں کی برائیاں کرتے رہیں، تو بچے کے لیے یہ باتیں سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
بچہ اکثر وہی اپنانے کی کوشش کرتا ہے جو وہ اپنے گھر کے ماحول میں دیکھتا ہے۔
اسی لیے بچوں کی اصلاح کا ایک اہم آغاز والدین کی اپنی اصلاح سے ہوتا ہے۔
جب گھر میں نماز کا ماحول ہوگا، سچائی کو اہمیت دی جائے گی، بڑوں کا احترام ہوگا، قرآنِ کریم سے تعلق ہوگا اور اچھے اخلاق کو عملی طور پر اپنایا جائے گا تو اس کے مثبت اثرات بچوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
بچوں کی دینی تربیت کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
اگر ہم واقعی اپنی آنے والی نسلوں کو مضبوط ایمان اور اچھے کردار کے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں آج ہی اپنی ترجیحات پر غور کرنا ہوگا۔
1. گھر میں نماز کا ماحول بنائیں
نماز کو صرف ایک حکم کے طور پر پیش کرنے کے بجائے گھر کے ماحول کا حصہ بنائیں۔ بچے والدین کو نماز ادا کرتے دیکھیں اور عبادت کو زندگی کی ایک اہم حقیقت کے طور پر محسوس کریں۔
2. قرآنِ کریم سے محبت پیدا کریں
بچوں کو صرف قرآنِ کریم پڑھانا ہی کافی نہیں، بلکہ ان کے دل میں قرآن کا ادب، محبت اور اس کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا جذبہ بھی پیدا کرنا چاہیے۔
3. ڈیجیٹل دنیا کے استعمال میں رہنمائی دیں
بچوں کو ٹیکنالوجی سے فائدہ مند اور ذمہ دارانہ طریقے سے استفادہ کرنا سکھائیں۔ ان کے استعمال، دیکھے جانے والے مواد اور آن لائن ماحول کے بارے میں مناسب رہنمائی اور نگرانی رکھیں۔
4. بچوں کی صحبت پر توجہ دیں
دوست اور ماحول انسان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ بچہ کن لوگوں کے ساتھ وقت گزار رہا ہے اور ان کی صحبت اس کے کردار پر کیا اثر ڈال رہی ہے۔
5. سوال کرنے کا حوصلہ دیں
اگر بچہ دین یا زندگی کے بارے میں کوئی سوال کرے تو اسے ڈانٹنے یا خاموش کرانے کے بجائے محبت، حکمت اور سمجھداری کے ساتھ جواب دیا جائے۔
سوال کا درست جواب بچے کے اعتماد اور دین سے تعلق کو مضبوط کر سکتا ہے۔
6. زندگی کا اصل مقصد سمجھائیں
بچوں کو صرف دنیاوی مہارتیں، کیریئر اور کامیابی کے طریقے نہ سکھائیں بلکہ یہ بھی بتائیں کہ انسان کی زندگی کا ایک اعلیٰ مقصد ہے۔
انہیں سکھائیں کہ دنیاوی زندگی اہم ہے، مگر آخرت کی کامیابی اس سے بھی بڑھ کر ہے۔
آج کا فیصلہ، کل کی نسل
یاد رکھیے، ہم آج اپنے بچوں کو جو کچھ دے رہے ہیں، کل وہی چیزیں معاشرے کی صورت میں ہمارے سامنے آئیں گی۔
اگر ہم انہیں قرآنِ کریم سے جوڑیں گے تو قرآن سے محبت کرنے والی نسل پیدا ہوگی۔
اگر ہم انہیں نماز کی عادت دیں گے تو عبادت سے تعلق رکھنے والی نسل پروان چڑھے گی۔
اگر ہم انہیں حیا، ادب، سچائی اور سنت کی محبت دیں گے تو ایک بہتر اور پاکیزہ معاشرہ وجود میں آئے گا۔
لیکن اگر ہماری تمام توجہ صرف دولت، فیشن، دنیاوی کامیابی اور مادی ترقی تک محدود رہی اور ہم نے ان کے ایمان اور کردار کو نظر انداز کر دیا، تو مستقبل میں پیدا ہونے والی کمزوریوں پر صرف شکایت کرنا کافی نہیں ہوگا۔
سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟
آنے والی نسلوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ صرف یہ نہیں کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔
اصل خطرہ یہ ہے کہ دنیا کے بدلنے کے ساتھ کہیں ہماری نسلوں کا دین، کردار، عقیدہ اور حیا بھی کمزور نہ ہو جائے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم جدید دور سے بھاگنے کے بجائے اپنی نسل کو اتنا مضبوط بنائیں کہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں بھی اپنے ایمان اور اسلامی شناخت کو محفوظ رکھ سکے۔
انہیں علم دیں، ہنر دیں، دنیا میں آگے بڑھنے کی صلاحیت دیں، لیکن ساتھ ہی ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی محبت، رسولِ اکرم ﷺ کی محبت اور قرآنِ کریم کی ہدایت سے بھی روشن کریں۔
اختتامی کلمات
عرسِ اعلیٰ حضرت کے موقع پر ہمیں صرف امام اہلِ سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو یاد کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ان کی علمی اور دینی میراث سے عملی رہنمائی بھی حاصل کرنی چاہیے۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی علمی خدمات ہمیں عقیدہ، فقہ، عشقِ رسول ﷺ اور دین پر استقامت کی اہمیت یاد دلاتی ہیں۔
اب ہماری ذمہ داری ہے کہ دین کی اس امانت کو اپنی اولاد تک صحیح انداز میں پہنچائیں۔
اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اچھی تعلیم اور بہتر مواقع کی فکر ضرور کریں، لیکن ان کے ایمان، عقائد، نماز، اخلاق اور کردار کی فکر کو اس سے الگ نہ کریں۔
کیونکہ دنیا کی سب سے بڑی کامیابی بھی اس وقت نامکمل رہ جاتی ہے جب انسان اپنے رب سے دور ہو جائے، جبکہ ایمان اور نیک عمل کے ساتھ دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی صحیح اسلامی تربیت کرنے، انہیں قرآن و سنت سے جوڑنے، ان کے ایمان، عقائد اور کردار کی حفاظت کرنے اور خود بھی ان کے لیے بہترین عملی نمونہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
اور عرسِ اعلیٰ حضرت کی برکت سے ہمیں امام اہلِ سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کو سمجھنے، اخلاص کے ساتھ ان پر عمل کرنے اور انہیں آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہِ النبی الکریم ﷺ۔


