عقیدۂ رسالت مسلمانوں کے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بے شمار خصوصیات اور عظیم فضائل عطا فرمائے ہیں۔ انہی مبارک خصوصیات میں حضور اکرم ﷺ کے شاہد و ناظر ہونے کا عقیدہ بھی شامل ہے، جسے اہلِ سنت کے اکابر علماء نے قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور اقوالِ ائمہ کی روشنی میں بیان فرمایا ہے۔
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ حاضر و ناظر سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرح ذاتی، مستقل اور محیط علم و قدرت نہیں، کیونکہ یہ صفات صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ بلکہ حضور اکرم ﷺ کا علم، مشاہدہ اور تصرف سب اللہ تعالیٰ کی عطا، مشیت اور اجازت سے ہے۔
حاضر و ناظر کا مفہوم
اہلِ سنت کے علماء نے "حاضر و ناظر” کی وضاحت مختلف انداز میں فرمائی ہے۔
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی معروف کتاب جاء الحق میں حاضر و ناظر کے مفہوم کو بیان کرتے ہوئے لکھا کہ عام طور پر جہاں تک انسان کی نظر پہنچتی ہے وہاں تک وہ ناظر ہوتا ہے، اور جہاں تک اس کی دسترس اور تصرف پہنچتا ہے وہاں تک اسے حاضر کہا جاتا ہے۔
شرعی اصطلاح میں ایک صاحبِ قوتِ قدسیہ ہستی کا ایک جگہ رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عطا سے عالم کے حالات کا مشاہدہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے دور دراز حاجت مندوں کی مدد فرمانا اس مفہوم کے ضمن میں بیان کیا جاتا ہے۔
📚 جاء الحق، ص 349، مکتبہ غوثیہ کراچی
یہ سب کچھ اس حقیقت کے تحت ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے، جسے چاہے اور جتنا چاہے عطا فرمائے۔
قرآنِ کریم سے استدلال
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں اپنے محبوب ﷺ کو مخاطب فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا﴾
(سورۃ الأحزاب: 45-46)
ترجمۂ کنز الایمان:
"اے غیب کی خبریں بتانے والے نبی! بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا، اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔”
اہلِ سنت کے علماء نے اس آیتِ مبارکہ میں لفظ شَاهِدًا سے حضور اکرم ﷺ کے مقامِ شہادت کو بیان فرمایا ہے۔
حضور ﷺ صرف ایک پیغام پہنچانے والے رسول ہی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے اپنی امت پر گواہ بھی ہیں۔
احادیثِ مبارکہ سے دلائل
اللہ تعالیٰ نے زمین کو حضور ﷺ کے سامنے سمیٹ دیا
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللّٰهَ زَوَى لِيَ الأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا
ترجمہ:
"اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا، تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب دیکھ لیے۔”
📚 صحیح مسلم
یہ حدیثِ مبارکہ حضور اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کیے جانے والے خصوصی مشاہدے کی شان کو ظاہر کرتی ہے۔
حضور ﷺ نے اپنے حوض کو دیکھا
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
وَاللهِ إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الآنَ
ترجمہ:
"اللہ کی قسم! میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں۔”
📚 صحیح بخاری، کتاب الجنائز
یہ بھی حضور اکرم ﷺ کے اس خصوصی مشاہدے کی ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو عطا فرمایا۔
دنیا کو حضور ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا
بعض روایات میں یہ مضمون بھی بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کے سامنے دنیا اور اس کے احوال کو پیش فرمایا۔
إِنَّ اللّٰهَ عَرَضَ عَلَيَّ الدُّنْيَا، فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا هُوَ كَائِنٌ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، كَمَا أَنْظُرُ إِلَى كَفِّي
ترجمہ:
"اللہ تعالیٰ نے دنیا کو میرے سامنے پیش فرمایا، تو میں اسے اور اس میں قیامت تک ہونے والے امور کو اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھتا ہوں۔”
📚 حلیۃ الاولیاء، جلد 6
اہلِ علم نے ان روایات کی روشنی میں حضور اکرم ﷺ کے اللہ تعالیٰ کی عطا سے حاصل ہونے والے خصوصی علم و مشاہدے کو بیان فرمایا ہے۔
اقوالِ اکابر علماءِ اہلِ سنت
اہلِ سنت کے متعدد اکابر علماء نے حضور اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ اور امت کے ساتھ آپ ﷺ کے خصوصی تعلق کو اپنی تصانیف میں بیان فرمایا ہے۔
شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضور اکرم ﷺ کے مقام و فیضان کے حوالے سے امت کے ساتھ آپ ﷺ کے خصوصی تعلق اور روحانی فیض کا ذکر فرمایا ہے۔
📚 اخبار الاخیار
امام ابن الحاج مکی رحمۃ اللہ علیہ
امام ابن الحاج مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب المدخل میں حضور اکرم ﷺ کی عظمت اور امت کے ساتھ آپ ﷺ کے تعلق کے حوالے سے تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔
📚 المدخل، جلد 1
امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ
امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی معروف کتاب المواہب اللدنیہ میں حضور اکرم ﷺ کے فضائل و خصائص اور عظیم مراتب کو بیان فرمایا ہے۔
📚 المواہب اللدنیہ، جلد 5
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا عشقِ رسول ﷺ
امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی علمی اور شعری خدمات کے ذریعے عشقِ رسول ﷺ اور عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کو عام فرمایا۔
حدائقِ بخشش میں آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
سرِ عرش پر ہے تری گزر، دلِ فرش پر ہے تری نظر
ملکوت و ملک میں کوئی شے نہیں، وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں
یہ اشعار حضور اکرم ﷺ کی عظمت، شان اور اللہ تعالیٰ کی عطا سے حاصل ہونے والے بلند مقام کو محبت اور عقیدت کے انداز میں بیان کرتے ہیں۔
حاضر و ناظر کے عقیدے میں اعتدال
یہاں ایک بنیادی بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے:
اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتی اور مستقل ہیں، جبکہ مخلوق کو جو کچھ بھی حاصل ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہے۔
لہٰذا حضور اکرم ﷺ کی عظمت، علم اور شان بیان کرتے ہوئے یہ عقیدہ رکھا جائے کہ:
- ہر عطا اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔
- ہر قدرت اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہے۔
- ہر علم اللہ تعالیٰ کے عطا فرمانے سے ہے۔
- اللہ تعالیٰ بے نیاز اور ذاتی طور پر کامل ہے۔
- حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب بندے اور عظیم رسول ہیں۔
یہی محبت اور عقیدت کا راستہ ہے اور یہی اہلِ سنت کے اکابر کا طریقہ ہے۔
اختتامی کلمات
حضور نبیِ کریم ﷺ سے محبت صرف جذبات کا نام نہیں بلکہ ایمان، ادب، اتباع اور عقیدت کا نام ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم حضور اکرم ﷺ کی سیرت کو پڑھیں، آپ ﷺ کی سنت کو اپنائیں، آپ ﷺ کے مقام و مرتبے کو پہچانیں اور اپنے بچوں تک بھی عشقِ رسول ﷺ کی یہ عظیم دولت منتقل کریں۔
حضور ﷺ سے سچی محبت کا سب سے خوبصورت اظہار یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سچی محبت، صحیح عقیدہ، ادبِ رسول ﷺ اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ پاک ہمیں اہلِ سنت کے صحیح عقائد پر زندہ رکھے اور اسی پر خاتمہ نصیب فرمائے۔
آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔


