تعارف
انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی تعمیر صرف بلند عمارتوں، مضبوط معیشتوں یا طاقتور افواج سے نہیں ہوتی، بلکہ ان کی اصل بنیاد اعلیٰ کردار، پاکیزہ اخلاق، حیا اور عفت پر قائم ہوتی ہے۔
جب کسی معاشرے میں حیا زندہ ہو، عفت کی حفاظت کی جائے اور اخلاقی اقدار کو عزت دی جائے تو وہ معاشرہ نہ صرف ترقی کرتا ہے بلکہ عزت، وقار اور استحکام بھی حاصل کرتا ہے۔ لیکن جب بے حیائی کو آزادی کا نام دیا جانے لگے، پردے کو بوجھ سمجھا جائے اور اخلاقی حدود پامال ہونے لگیں تو ظاہری ترقی کے باوجود معاشرہ اندر سے کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
اسلام کی تعلیمات کے مطابق عورت اگر اپنے کردار، حیا اور پاکدامنی کی حفاظت کرے تو وہ صرف اپنی ذات کی اصلاح نہیں کرتی بلکہ ایک صالح خاندان اور ایک باکردار معاشرے کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عورت کے کردار، عفت اور پردے کو خصوصی اہمیت عطا فرمائی ہے۔
اس قسط میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں حیا، عفت، پردہ اور معاشرے کی اصلاح میں عورت کے کردار کا جائزہ لیں گے۔
مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم
اسلام میں حیا اور پاکدامنی کی ذمہ داری صرف عورت پر نہیں بلکہ مرد اور عورت دونوں پر عائد کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ
ترجمہ: "مسلمان مردوں سے فرما دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے بہت پاکیزہ ہے۔”
(سورۃ النور، آیت 30)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ مؤمن عورتوں کو حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ…
ترجمہ: "اور مسلمان عورتوں سے فرما دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی پاکدامنی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں…”
(سورۃ النور، آیت 31)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام میں حیا کا آغاز نگاہوں کی حفاظت سے ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داری مرد و عورت دونوں پر یکساں عائد ہوتی ہے۔
پردہ: اللہ تعالیٰ کا واضح حکم
آج بعض لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ پردہ عورت کی ترقی میں رکاوٹ ہے یا یہ صرف علماء کی ایجاد ہے۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات اس تصور کی تردید کرتی ہیں۔
پردہ کسی انسان کی ایجاد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا واضح حکم ہے۔ دنیا و آخرت کی کامیابی اسی میں ہے کہ اس حکم کو رضا و رغبت کے ساتھ قبول کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ…
ترجمہ: "اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی صاحبزادیوں اور مسلمان عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے اوپر ڈال لیا کریں۔”
(سورۃ الاحزاب، آیت 59)
غیر محرم سے تعلقات کے بارے میں نبوی تعلیمات
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب خواتین سے بیعت لیتے تو آپ ﷺ کا مبارک ہاتھ کبھی کسی غیر محرم عورت کے ہاتھ سے نہیں لگا۔
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 2875)
اسی طرح حضرت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اِنِّيْ لَا اُصَافِحُ النِّسَاء
ترجمہ: "میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔”
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 2874)
یہ احادیث اس بات کی تعلیم دیتی ہیں کہ مسلمان مرد اور عورت دونوں کو غیر محرم افراد کے ساتھ شریعت کی مقرر کردہ حدود کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
رسم و رواج کو قرآن و سنت کے مطابق پرکھنا چاہیے
بعض اوقات معاشرے میں ایسے رسم و رواج رائج ہو جاتے ہیں جو شریعت کے مطابق نہیں ہوتے۔
مثلاً بعض جگہوں پر خواتین غیر محرم پیر کے سامنے بغیر پردے کے بیٹھتی ہیں یا ہاتھ ملا کر دم کرواتی ہیں، حالانکہ ایسے معاملات کو ہمیشہ قرآن، سنت اور مستند علماء کی رہنمائی کی روشنی میں پرکھنا چاہیے۔
اسلامی تعلیمات کے خلاف کوئی بھی رسم قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔
حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی شان
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"قیامت کے دن ایک منادی اعلان کرے گا: اے اہلِ محشر! اپنی نگاہیں نیچی کر لو تاکہ فاطمہ بنت محمد ﷺ پل صراط سے گزر جائیں۔”
(الجامع الصغیر، حدیث: 822)
یہ روایت حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے بلند مقام اور عظیم شان کو ظاہر کرتی ہے۔
کیا پیر سے بھی پردہ ضروری ہے؟
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ اگر پیر غیر محرم ہو تو کیا عورت پر اس سے بھی پردہ لازم ہے؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جی ہاں۔
پردے کے معاملے میں پیر اور دیگر غیر محرم مردوں کے حکم میں کوئی فرق نہیں۔
(فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ 505)
دیوث کے بارے میں سخت وعید
اسلام نے خاندان کی عزت اور پردے کی حفاظت کی ذمہ داری مردوں پر بھی عائد کی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین ایسے افراد ہیں جو جنت میں داخل نہیں ہوں گے:
- دیوث (جو اپنے اہلِ خانہ کی بے پردگی پر غیرت نہ رکھے)
- مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورت
- شراب کا عادی شخص
(مجمع الزوائد، حدیث: 7722)
یہ حدیث خاندان کی دینی تربیت اور اسلامی غیرت کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
"میں نے بیٹا کھویا ہے، حیا نہیں”
صحابیات رضی اللہ عنہن کی حیا اور پردے کی بہترین مثال حضرت ام خلاد رضی اللہ عنہا ہیں۔
جب ان کا بیٹا جنگ میں شہید ہوا تو وہ اس کی خبر معلوم کرنے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں نقاب اوڑھ کر حاضر ہوئیں۔
کسی نے حیرت سے کہا:
"اس وقت بھی آپ نے چہرہ ڈھانپ رکھا ہے؟”
انہوں نے جواب دیا:
"میں نے بیٹا ضرور کھویا ہے، لیکن اپنی حیا نہیں کھوئی۔”
(سنن ابی داؤد، حدیث: 2488)
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حیا ہر حال میں مؤمن کی زینت ہے۔
ہمارے معاشرے کے لیے سبق
آج شادیوں، تقریبات اور خاندانی اجتماعات میں اکثر بلا ضرورت مرد و عورت کا اختلاط اور بے پردگی عام ہوتی جا رہی ہے۔
افسوس کہ بعض اوقات ان غلط رویوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے بجائے انہیں معمول سمجھ لیا جاتا ہے، بلکہ بعض والدین اور شوہر خود ایسے لباس اور انداز کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتے۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حیا، عفت اور پردے کی حفاظت ہی گھر، خاندان اور معاشرے کے استحکام کی ضمانت ہے۔
نامحرم استاد سے بھی پردہ لازم ہے
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا بالغ ہونے کے بعد نامحرم استاد سے بھی پردہ ضروری ہے؟
آپ نے فرمایا کہ اگر بچپن میں کسی نامحرم استاد سے قرآن مجید پڑھا ہو، تو بلوغت کے بعد اس استاد سے بھی پردہ فرض ہو جائے گا۔
مزید فرمایا کہ پردے کے حکم میں استاد، عالم، پیر یا کوئی بھی غیر محرم مرد، سب کا حکم یکساں ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 639)
اختتامیہ
اسلام نے حیا اور پردے کو عورت کی عزت، تحفظ اور وقار کا ذریعہ قرار دیا ہے، جبکہ مردوں کو بھی نگاہوں کی حفاظت، پاکدامنی اور اسلامی حدود کی پابندی کا حکم دیا ہے۔
جب خاندان قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی گزاریں گے، تو گھروں میں سکون، معاشرے میں پاکیزگی اور آنے والی نسلوں میں بہترین اسلامی اقدار پروان چڑھیں گی۔
دعا
اللہ رب العزت اس حقیر کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے مصنف، ان کے والدین، اساتذۂ کرام، مشائخِ عظام اور تمام اہلِ ایمان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے، حیا، عفت اور پردے کی حقیقی روح کو اپنانے، اپنی نسلوں کی صحیح اسلامی تربیت کرنے اور ہر قسم کی بے حیائی، فتنوں اور گمراہی سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور تمام مسلمان خواتین کو حضرت خدیجۃ الکبریٰ، حضرت فاطمۃ الزہراء، حضرت عائشہ صدیقہ اور دیگر امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے پاکیزہ کردار کی پیروی کی سعادت عطا فرمائے، اور ہمارے معاشرے کو امن، عفت، پاکیزگی، خیر و برکت اور دینی استحکام کا گہوارہ بنا دے۔
آمین یا رب العالمین۔


