وائرل ہونے کی خواہش اور اسلامی مزاج

یہ مضمون پڑھیں :English|اردو|العربية
The-Desire-to-Go-Viral-and-the-Islamic-Mindset

تعارف

آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ چند سال پہلے انسان شہرت حاصل کرنے کے لیے برسوں محنت کرتا تھا، مگر آج ایک مختصر ویڈیو، ایک متنازع بیان یا ایک غیر ذمہ دارانہ پوسٹ چند گھنٹوں میں کسی کو لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس تیز رفتار دنیا میں بہت سے نوجوانوں کا مقصد علم، کردار یا خدمتِ خلق نہیں بلکہ صرف "وائرل” ہونا رہ گیا ہے۔ وہ ہر قیمت پر توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، چاہے اس کے لیے اپنی عزت، خاندان کی حرمت یا دینی اقدار ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑیں۔

اسلام انسان کو شہرت سے نہیں، بلکہ شہرت کی خواہش اور ریاکاری سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر کسی کو نیکی، علم یا خدمت کی وجہ سے شہرت مل جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، لیکن اگر مقصد ہی لوگوں کی واہ واہ، لائکس اور تعریف بن جائے تو یہی نیکی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔


اسلام میں اخلاص کی اہمیت

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ

ترجمہ:

"اور انہیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ خالص اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے۔”

(سورۃ البینہ، پارہ 30، آیت 5)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر عمل کی بنیاد اخلاص ہے۔ جب نیت اللہ تعالیٰ کی رضا کے بجائے لوگوں کی تعریف بن جائے تو عمل کی روح کمزور ہو جاتی ہے۔


دنیا کی شہرت یا آخرت کی کامیابی؟

اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَۃِ نَزِدۡ لَہٗ فِیۡ حَرۡثِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ

ترجمہ:

"جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کرتے ہیں، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے ہم اسے اسی میں سے کچھ دے دیتے ہیں، مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔”

(سورۃ الشوریٰ، پارہ 25، آیت 20)

یہ آیت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہماری جدوجہد کا اصل مقصد کیا ہے؟ اللہ کی رضا یا چند لمحوں کی شہرت؟


ریاکاری اور شہرت طلبی کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی تنبیہ

رسول اللہ ﷺ نے ریاکاری اور شہرت طلبی کے بارے میں نہایت سخت تنبیہ فرمائی۔ حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"جو شخص شہرت چاہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی حقیقت لوگوں پر ظاہر کر دے گا، اور جو ریاکاری کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی ریاکاری کو نمایاں کر دے گا۔”

(صحیح بخاری، حدیث: 6499)

آج سوشل میڈیا پر بعض لوگ صرف زیادہ ویوز اور فالوورز کے لیے جھوٹ بولتے ہیں، دوسروں کی تضحیک کرتے ہیں، نجی زندگی کو تماشہ بنا دیتے ہیں یا ایسے مناظر پیش کرتے ہیں جو اسلامی اخلاق کے خلاف ہوتے ہیں۔ وقتی طور پر انہیں شہرت مل سکتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل معیار اخلاص اور تقویٰ ہے، نہ کہ ویوز اور فالوورز کی تعداد۔


کیا ہر شہرت بری ہے؟

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام ہر قسم کی شہرت کو منع نہیں کرتا۔ اگر کوئی عالمِ دین، استاد، داعی یا سماجی کارکن اللہ کی رضا کے لیے خدمت کرے اور اس کے نتیجے میں لوگ اسے پہچاننے لگیں تو یہ مذموم شہرت نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم کس لیے کام کر رہے ہیں؟

اگر مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہے تو شہرت بھی نعمت بن سکتی ہے، اور اگر مقصد صرف لوگوں کی تعریف ہے تو یہی شہرت آزمائش بن جاتی ہے، اور جہنم میں بھی جھونک سکتی ہے۔


نوجوانوں کے لیے ایک لمحۂ فکر

آج کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ہر پوسٹ، ہر ویڈیو اور ہر تبصرے سے پہلے اپنے دل سے ایک سوال کریں:

اگر اس کام پر کوئی انسان مجھے نہ دیکھے اور نہ سراہے، تو کیا میں پھر بھی یہ کام کروں گا؟

اگر جواب "ہاں” ہے تو نیت درست ہے، اور اگر جواب "نہیں” ہے تو اپنی نیت کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔


سوشل میڈیا کو خیر کا ذریعہ بنائیں

ہمیں چاہیے کہ سوشل میڈیا کو دعوتِ دین، علم کی اشاعت، اخلاق کی ترویج اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ اپنی ذات کی تشہیر کا میدان۔

یاد رکھیں، وائرل ہونا کامیابی کی علامت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبول ہونا اصل کامیابی ہے۔


نتیجہ

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو یہ سکھائیں کہ زندگی کا مقصد لوگوں کی تالیاں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ جب نیت خالص ہوگی تو چھوٹا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم بن جائے گا، اور اگر نیت خراب ہو تو بڑا سے بڑا کارنامہ بھی بے وزن ہو سکتا ہے۔ اسی اخلاص میں دنیا کی عزت بھی ہے اور آخرت کی کامیابی بھی۔

اللہ کریم ہمیں ان حقائق کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اوپر تک سکرول کریں۔