کامیابی کا غلط معیار

یہ مضمون پڑھیں :English|اردو|العربية
The-False-Measure-of-Success

تعارف

کبھی کامیابی کا چراغ کردار کی روشنی سے جلتا تھا، آج وہ دولت کی چکاچوند میں گم ہو چکا ہے۔ کبھی کسی انسان کی عظمت اس کے علم، تقویٰ، دیانت اور خدمتِ خلق سے پہچانی جاتی تھی، مگر اب کامیابی کا پیمانہ بینک بیلنس، مہنگی گاڑی، عالی شان بنگلہ، سوشل میڈیا کی مقبولیت اور دنیاوی آسائشیں بن گئی ہیں۔

انسان نے کامیابی کی تعریف تو بدل دی، مگر اس تبدیلی نے اس سے سکون چھین لیا۔ دولت بڑھی، مگر دل تنگ ہو گئے؛ شہرت ملی، مگر تنہائی بڑھ گئی؛ سہولتیں بڑھیں، مگر اطمینان کم ہوتا گیا۔ وجہ صرف ایک ہے کہ ہم نے کامیابی کو وہاں تلاش کیا جہاں وہ کبھی تھی ہی نہیں۔


حقیقی کامیابی کا قرآنی معیار

قرآنِ مجید انسان کو کامیابی کا ایسا معیار عطا کرتا ہے جو وقتی نہیں بلکہ ابدی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ﴾

ترجمہ:

"اور تمہیں تمہارے اعمال کا پورا بدلہ قیامت کے دن دیا جائے گا، پھر جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی حقیقی کامیاب ہے۔”

(سورۂ آلِ عمران، پارہ 4، آیت 185)

یہ آیت دنیا کے تمام خود ساختہ پیمانوں کو ایک لمحے میں بے معنی کر دیتی ہے۔ اگر دولت ہی کامیابی ہوتی تو قارون سب سے کامیاب انسان ہوتا، اگر اقتدار ہی کامیابی ہوتا تو فرعون کا انجام عبرت نہ بنتا، اور اگر شہرت ہی کامیابی ہوتی تو تاریخ ظالموں کے نام عزت سے یاد کرتی۔

مگر قرآن اعلان کرتا ہے کہ اصل کامیابی صرف وہ ہے جو آخرت میں سرخرو کر دے۔


مومن کی کامیابی کی صفات

قرآنِ کریم ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ۝ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ۝ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ۝ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ ۝ وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ﴾

ترجمۂ کنزالعرفان:

"بیشک ایمان والے کامیاب ہوگئے، جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں، اور وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں، اور وہ جو زکوٰۃ دینے کا کام کرنے والے ہیں، اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔”

(پارہ 18، سورۃ المؤمنون، آیات 1 تا 5)


کامیابی کے تین اصول

حضور خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لایا، اسے بقدرِ کفایت رزق مل گیا اور اللہ نے اسے جو کچھ دیا، اس پر قناعت (صبر و شکر) کی توفیق دی۔”

(صحیح مسلم، باب فی الکفاف والقناعۃ، حدیث: 1054)

ناظرینِ کرام! غور کرنے کا مقام ہے کہ اس حدیثِ مبارکہ میں کامیابی کے تین اصول بیان کیے گئے ہیں:

(1) اسلام لانا

اور ہم کامیابی کفار میں اور مغرب کی عیاشیوں میں ڈھونڈتے ہیں۔

(2) بقدرِ کفایت رزق مل جانا

لیکن ہم "ہل من مزید” کا بورڈ لگا کر رکھتے ہیں کہ تھوڑا اور مل جائے۔

(3) قناعت (صبر و شکر)

لیکن ہمارا معاملہ یہ ہے کہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں دیا، ہم اس پر اس کی شکر گزاری نہیں کرتے۔ اگر کوئی مصیبت پہنچے تو اس پر ہم سے صبر نہیں ہوتا۔ یہ ہماری کیسی بندگی ہے؟ سوچنے کا مقام ہے۔


ہماری تربیت کا بدلتا ہوا معیار

افسوس یہ ہے کہ آج ہماری تربیت بھی اسی غلط معیار پر استوار ہو رہی ہے۔

بچوں سے پوچھا جاتا ہے کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ ڈاکٹر، انجینئر، افسر یا تاجر؟

مگر یہ کم ہی پوچھا جاتا ہے کہ اچھا انسان کب بنو گے؟

ہم نے پیشے کو مقصد بنا لیا اور کردار کو کوئی اہمیت نہیں دی، حالانکہ معاشرے کو صرف کامیاب پیشہ ور افراد نہیں بلکہ دیانت دار اور بااخلاق انسان درکار ہیں۔


اپنی کامیابی کا معیار بدلیں

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی کامیابی کا معیار بدلیں۔

اگر ہماری نمازیں آباد ہیں، والدین ہم سے راضی ہیں، رزق حلال ہے، زبان سچی ہے، معاملات دیانت پر قائم ہیں اور اللہ و رسول عزوجل و ﷺ کی اطاعت ہماری زندگی کا شعار ہے تو ہم کامیاب ہیں، چاہے دنیا ہمیں عام انسان سمجھے۔

لیکن اگر ہم ان نعمتوں سے محروم ہیں تو دنیا کی بلندیاں بھی ہماری اصل ناکامی کو نہیں چھپا سکتیں۔


اختتامی کلمات

کامیابی منزل کا نام نہیں، راستے کے انتخاب کا نام ہے۔

جو راستہ اللہ کی رضا تک پہنچا دے، وہی کامیابی ہے، اور جو راستہ صرف دنیا تک محدود رہے، وہ خواہ کتنا ہی روشن کیوں نہ دکھائی دے، اس کا اختتام اندھیرا ہی ہے۔

اس لیے آئیے! اپنی زندگی کا پیمانہ بدلیں، کیونکہ دنیا کی کامیابی چند برس کی مہمان ہے، جبکہ آخرت کی کامیابی ہمیشہ کی زندگی ہے۔

اللہ کریم ہمیں ان باتوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین۔

اوپر تک سکرول کریں۔