تعارف
آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اور موبائل فون ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے موبائل اسکرین روشن ہوتی ہے، اور رات سونے سے پہلے بھی اکثر آخری نگاہ اسی پر پڑتی ہے۔ لیکن ایک لمحہ رک کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس مصروف زندگی میں قرآنِ کریم کے لیے ہمارے پاس کتنا وقت باقی رہ گیا ہے؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ روزانہ گھنٹوں سوشل میڈیا، ویڈیوز اور مختلف ایپس پر وقت گزارتے ہیں، مگر قرآنِ مجید کی چند آیات پڑھنے کی توفیق بھی نصیب نہیں ہوتی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ موبائل ہمارے ہاتھ میں تو ہے، مگر قرآن ہمارے دل سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد قرآنِ کریم پڑھنا ہی نہیں جانتی۔ اور جو پڑھنا جانتے ہیں، ان میں بھی کتنے لوگ درست مخارج اور تجوید کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں؟ پھر جو صحیح طریقے سے تلاوت کر سکتے ہیں، کیا وہ روزانہ قرآن پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، یا صرف رمضان المبارک، کسی خاص رات، کسی دینی تقریب یا کسی عزیز کے انتقال پر ایصالِ ثواب کے لیے قرآن کھولتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس پر ہم سب کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں قرآنِ کریم کو اکثر صرف چند مخصوص مواقع تک محدود کر دیا گیا ہے، جیسے عدالت میں گواہی دیتے وقت، شادی کے موقع پر دلہن کے سر پر رکھنے کے لیے، یا نئے گھر میں برکت کے لیے تلاوت کرنا۔
کیا قرآنِ کریم صرف انہی مقاصد کے لیے نازل کیا گیا ہے؟
ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ ہدایت، نصیحت اور پوری زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ بنا کر نازل فرمایا ہے۔
قرآنِ کریم ہدایت کا سرچشمہ
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ﴾
ترجمہ:
"بیشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے۔”
(سورۂ بنی اسرائیل، پارہ 15، آیت 9)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قرآنِ کریم انسان کو بہترین اور سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ہماری توجہ اس عظیم کتاب سے ہٹ کر موبائل کی بے شمار مصروفیات کی طرف ہو گئی ہے، جن میں سے اکثر نہ دنیا میں حقیقی فائدہ دیتی ہیں اور نہ آخرت میں۔
یاد رکھیں، موبائل اپنی ذات میں نہ اچھا ہے اور نہ برا۔ اس کا استعمال ہی اسے مفید یا نقصان دہ بناتا ہے۔ اگر یہی موبائل قرآن سیکھنے، دینی علم حاصل کرنے اور نیکی پھیلانے کے لیے استعمال ہو تو یہ باعثِ ثواب ہے، لیکن اگر یہی وقت فضول ویڈیوز، بے مقصد گفتگو اور گناہوں میں گزر جائے تو یہی آلہ ہمارے لیے وبال بن سکتا ہے۔
بہترین انسان کون ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»
ترجمہ:
"تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔”
(صحیح بخاری، حدیث: 5027)
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی فضیلت اور کامیابی دنیاوی شہرت یا مادی ترقی میں نہیں، بلکہ قرآنِ کریم کو سیکھنے اور دوسروں تک پہنچانے میں ہے۔
اپنے آپ سے ایک سوال
آئیے! آج ہم اپنے دل سے ایک سوال کریں:
ہم روزانہ موبائل پر کتنے گھنٹے گزارتے ہیں، اور قرآنِ کریم کے لیے کتنے منٹ نکالتے ہیں؟
اگر اس سوال کا جواب ہمیں شرمندہ کر دے تو سمجھ لیجیے کہ ہمیں اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
قرآنِ کریم قیامت کے دن سفارش کرے گا
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«اقْرَءُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ»
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ:
"قرآن پڑھا کرو، کیونکہ قیامت کے دن یہ اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارش کرے گا۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 1873)
یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ موبائل کے نئے ماڈلز، وائرل ویڈیوز اور وقتی شہرت سب اسی دنیا میں رہ جائیں گے، لیکن قرآنِ کریم سے تعلق ہماری قبر کو روشن کرے گا اور قیامت کے دن ہماری شفاعت کا ذریعہ بنے گا۔
قرآن کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں
آئیے! آج عہد کریں کہ:
موبائل ہماری زندگی کا خادم رہے گا، حاکم نہیں، اور قرآنِ کریم ہماری زندگی کا اصل رہنما ہوگا۔
جس دن قرآن دوبارہ ہمارے دلوں میں اپنی حقیقی جگہ حاصل کر لے گا، اسی دن ہماری زندگیوں میں سکون، برکت اور حقیقی کامیابی واپس آ جائے گی۔
اختتامی کلمات
یہ دنیا عارضی ہے، لیکن قرآنِ کریم سے تعلق ہمیشہ باقی رہنے والی دولت ہے۔ اگر ہم روزانہ چند منٹ بھی اخلاص کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت، اس کے ترجمے اور اس کے احکام پر عمل کے لیے نکال لیں، تو یہی تعلق ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اللہ کریم ہمیں روزانہ پابندی کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے، اس کے معانی کو سمجھنے، اس کے احکام پر عمل کرنے اور اپنی زندگیوں کو قرآن کے نور سے منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔


