رشتوں میں محبت کم، تصاویر زیادہ

یہ مضمون پڑھیں :English|اردو|العربية
Love-in-Relationships-Is-Fading-While-Photos-Keep-Increasing

تعارف

ایک وقت تھا جب گھروں کے دروازے دستکوں سے آباد رہتے تھے۔ رشتہ دار بغیر اطلاع کے آ جاتے تو خوشی محسوس ہوتی۔ والدین کے قدموں میں بیٹھ کر حال احوال پوچھنا معمول تھا، بزرگوں کی دعائیں زندگی کا سرمایہ سمجھی جاتی تھیں، اور بچوں کو رشتوں کی پہچان ناموں سے نہیں بلکہ محبت سے ہوتی تھی۔

آج منظر بدل چکا ہے۔ ترقی، سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان ضرور بنایا ہے، مگر افسوس کہ دلوں کے فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ محبت کے جذبات اب عملی زندگی میں کم اور سوشل میڈیا کی تصاویر میں زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔

ہم نے رشتوں کو نبھانے کے بجائے انہیں دکھانے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ خوشی ہو یا غم، پہلے کیمرہ آن ہوتا ہے، پھر احساسات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ والدین کے ساتھ چند لمحے گزارنے میں بوجھ محسوس ہوتا ہے، لیکن انہی والدین کے ساتھ تصاویر اپ لوڈ کرکے محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ خاموش تبدیلی ہمارے معاشرے اور خاندانی نظام کو آہستہ آہستہ کمزور کر رہی ہے۔

اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ رشتے صرف سماجی تعلقات نہیں بلکہ عبادت اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔


اسلام میں صلۂ رحمی کی اہمیت

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ﴾

ترجمہ:

"اور اللہ سے ڈرو، جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتوں کا لحاظ رکھو۔”

(سورۃ النساء، آیت: 1)

یہ آیتِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ رشتہ داریوں کی حفاظت صرف ایک معاشرتی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ بھی ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى﴾

ترجمہ:

"اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو، اور رشتہ داروں سے بھی۔”

(سورۃ البقرہ، آیت: 83)

قرآنِ کریم ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ محبت کا اظہار صرف تصاویر یا سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے کیا جائے، بلکہ حسنِ سلوک، خدمت، احترام اور عملی محبت کے ذریعے اپنے رشتوں کو مضبوط بنایا جائے۔


احادیثِ مبارکہ میں صلۂ رحمی کی فضیلت

رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں برکت ہو اور اس کی عمر میں اضافہ ہو، وہ صلۂ رحمی کرے۔”

(صحیح البخاری، حدیث: 5986)

ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ارشاد فرمایا:

"رشتہ توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔”

(صحیح البخاری، حدیث: 5984)

یہ احادیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ صلۂ رحمی محض اچھا اخلاق نہیں بلکہ دنیا و آخرت کی کامیابی، رزق میں برکت اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔


صلۂ رحمی کی عملی صورتیں

اسلام نے صرف رشتے قائم رکھنے کا حکم نہیں دیا بلکہ انہیں نبھانے کے عملی طریقے بھی سکھائے ہیں، مثلاً:

  • رشتہ داروں کو تحائف دینا۔
  • ضرورت کے وقت ان کی مالی یا عملی مدد کرنا۔
  • سلام میں پہل کرنا۔
  • باقاعدگی سے ملاقات کرنا۔
  • ان کے ساتھ وقت گزارنا۔
  • خوش اخلاقی سے گفتگو کرنا۔
  • محبت، ہمدردی اور خیرخواہی کا اظہار کرنا۔
  • ان کے حقوق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرنا۔

(درر الاحکام، کتاب الکراہۃ، الجزء الاول، ص: 323، بحوالہ: بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 16، ص: 559)

اس موضوع کی مزید تفصیل کے لیے بہارِ شریعت، حصہ 16 کا مطالعہ مفید رہے گا۔


بدلتی ہوئی ترجیحات

آج ہماری ترجیحات خاموشی سے بدل چکی ہیں۔

ہم سینکڑوں لوگوں کی پوسٹوں پر تبصرے کر لیتے ہیں، لیکن کسی ناراض رشتہ دار کو ایک فون کرنے کی فرصت نہیں نکالتے۔ سالگرہ کی مبارکباد عوامی پوسٹ کے ذریعے دیتے ہیں، مگر بیمار عزیز کی عیادت کے لیے وقت نہیں نکالتے۔

یہ رویہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے تعلقات کی روح کو چھوڑ کر ان کی نمائش کو اہمیت دینا شروع کر دی ہے۔

حقیقی محبت والدین کے ساتھ ایک تصویر لینے کا نام نہیں، بلکہ ان کے تھکے ہوئے چہروں پر مسکراہٹ لانے کا نام ہے۔

حقیقی محبت مہنگے تحائف کی نمائش نہیں، بلکہ ناراض رشتہ دار کو منانے کا نام ہے۔

حقیقی محبت یہ نہیں کہ لوگ ہماری تصاویر پر "ماشاء اللہ” لکھ دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے والدین، بہن بھائی اور رشتہ دار ہمارے اخلاق، خدمت، وفاداری اور حسنِ سلوک کی گواہی دیں۔


رشتوں کو دوبارہ زندہ کریں

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم موبائل کی اسکرین سے نظریں اٹھائیں اور اپنے گھر والوں کی طرف دیکھیں۔

  • والدین کے ساتھ وقت گزاریں۔
  • بزرگوں کی خدمت کریں۔
  • بچوں کو اپنی توجہ دیں۔
  • رشتہ داروں سے ملاقات کریں۔
  • بیماروں کی عیادت کریں۔
  • ناراض دلوں کو جوڑنے کی کوشش کریں۔

یہی وہ اعمال ہیں جو خاندانوں کو مضبوط، معاشرے کو پُرامن، اور دلوں کو محبت، اعتماد اور خیرخواہی سے بھر دیتے ہیں۔

آئیے! آج عہد کریں کہ ہم محبت کو صرف تصاویر تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ اپنے کردار، وقت، خدمت، اخلاق اور ایثار کے ذریعے اپنے رشتوں کو زندہ کریں گے۔

کیونکہ تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے رشتے نبھائے، نہ کہ صرف تصویریں سجائیں۔


اختتامی کلمات

حقیقی محبت تصویروں، اسٹیٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ وقت دینے، خدمت کرنے، معاف کرنے، صلۂ رحمی اختیار کرنے اور اپنے عزیزوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔

جب ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے رشتوں کو مضبوط بناتے ہیں تو یہی رشتے دنیا میں سکون، برکت اور محبت کا ذریعہ بنتے ہیں، اور آخرت میں اجر و ثواب کا سبب بھی۔

آئیے! آج سے اپنے رشتوں کو صرف تصاویر میں نہیں، بلکہ اپنے اخلاق، خدمت، محبت اور وفاداری کے ذریعے زندہ کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین، رشتہ داروں اور تمام اہلِ ایمان کے حقوق ادا کرنے، صلۂ رحمی اختیار کرنے، اور حقیقی محبت کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔

اوپر تک سکرول کریں۔