نوجوان اور برداشت کا فقدان

یہ مضمون پڑھیں :English|اردو|العربية
Youth and the Decline of Patience

ایک لمحۂ فکریہ

آج کا نوجوان ذہین بھی ہے، باصلاحیت بھی اور باخبر بھی؛ مگر ہمارے معاشرے میں ایک تشویش ناک تبدیلی تیزی سے سامنے آ رہی ہے: برداشت کا فقدان۔

معمولی اختلاف پر غصہ، کسی کی تنقید پر فوری جواب، سوشل میڈیا پر تلخ کلامی، اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھنا اور دوسروں کی بات سننے سے پہلے ہی رد کر دینا—یہ سب ہمارے مزاج کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اسلام ہمیں ایسا مزاج سکھاتا ہے؟


قرآنِ کریم اور غصے پر قابو

قرآنِ کریم نے اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾

ترجمہ:
’’اور وہ جو غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرتے ہیں، اور اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘

(سورۃ آلِ عمران، پارہ 4، آیت 134)

غور کیجیے! قرآنِ کریم نے صرف غصہ نہ کرنے کی بات نہیں کی، بلکہ غصہ پی جانے اور دوسروں کو معاف کرنے کو نیک لوگوں کی صفت قرار دیا ہے۔

حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:

’’غصہ پینے والے وہ لوگ ہیں جو سخت غصے کی حالت میں آپے سے باہر نہیں ہوتے، بلکہ نفسانی غصہ پی جاتے ہیں، کہ باوجود قدرت کے غصہ جاری نہیں کرتے۔ یہ لوگ اپنی حیثیت کے لائق نیکیاں کرلیں، رب تعالیٰ اپنی شان کے لائق انہیں انعام دے گا۔‘‘

(تفسیر نعیمی، جلد 4، تحت الآیۃ، صفحہ 205)


حقیقی طاقت کیا ہے؟

رسولِ اکرم ﷺ نے اسی حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا:

’’طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔‘‘

(صحیح البخاری، کتاب الأدب، باب الحذر من الغضب، حدیث: 6114)

یہ حدیث آج کے نوجوان کے لیے ایک مکمل تربیتی اصول ہے۔

آج طاقت کا اظہار بلند آواز، سخت الفاظ، سوشل میڈیا پر جارحانہ پوسٹ یا کسی کو نیچا دکھانے سے کیا جاتا ہے؛ جبکہ نبی کریم ﷺ نے حقیقی طاقت کا معیار اپنے نفس پر قابو رکھنے کو قرار دیا۔


’’غصہ نہ کرو‘‘ — ایک عظیم اصول

ایک شخص نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کیا:

’’مجھے نصیحت فرمائیے۔‘‘

آپ ﷺ نے فرمایا:

لَا تَغْضَبْ

’’غصہ نہ کرو۔‘‘

اس شخص نے بار بار نصیحت طلب کی اور آپ ﷺ ہر مرتبہ یہی فرماتے رہے:

لَا تَغْضَبْ

(صحیح البخاری، کتاب الأدب، حدیث: 6116)

یہ مختصر جملہ دراصل زندگی کا ایک عظیم اصول ہے۔

ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر اختلاف کو جنگ بنانا ضروری نہیں، ہر تنقید کا بدلہ لینا ضروری نہیں اور ہر شخص کو اپنی رائے کا قائل کرنا بھی ضروری نہیں۔


نوجوان نسل میں برداشت کیوں کم ہو رہی ہے؟

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے فوری ردِعمل کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیا ہے۔

موبائل ہاتھ میں آیا، کوئی بات پسند نہیں آئی، فوراً جواب دے دیا۔

کسی نے اختلاف کیا، فوراً غصہ۔

کسی نے تنقید کی، فوراً بدتمیزی۔

کسی نے سوشل میڈیا پر مختلف رائے دی، فوراً طعن و تشنیع شروع۔

حالانکہ عقل مند انسان جواب دینے سے پہلے سوچتا ہے:

میرے الفاظ کا نتیجہ کیا ہوگا؟

ایک لمحے کا غصہ کبھی کبھی برسوں کے تعلقات ختم کر دیتا ہے۔ ایک جملہ دوست کو دشمن بنا دیتا ہے۔ ایک پوسٹ خاندان میں اختلاف پیدا کر دیتی ہے، اور ایک غیر ضروری بحث انسان کی عزت، وقت اور ذہنی سکون—تینوں چھین لیتی ہے۔


ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا

نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔

کسی کا ہم سے مختلف سوچنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ ہمارا دشمن ہے۔

اختلافِ رائے اگر ادب اور دلیل کے ساتھ ہو تو معاشرے کے لیے نقصان نہیں بلکہ فکری ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

دوسروں کی بات سننا، اپنے مؤقف پر غور کرنا اور ضرورت پڑنے پر اپنی غلطی تسلیم کرنا انسان کی کمزوری نہیں بلکہ اس کے کردار کی مضبوطی ہے۔


برداشت کا مطلب کمزوری نہیں

بعض نوجوان سمجھتے ہیں کہ خاموش رہنا کمزوری ہے، معاف کرنا کمزوری ہے اور کسی کی بات برداشت کر لینا کمزوری ہے۔

حالانکہ اسلام کی نظر میں اصل بہادری دوسروں کو زیر کرنا نہیں بلکہ اپنے نفس کو زیر کرنا ہے۔

جو نوجوان غصے میں اپنی زبان روک سکتا ہے، وہ کمزور نہیں؛ وہ اپنے نفس کا فاتح ہے۔

جو تنقید سن کر سوچ سکتا ہے، وہ کمزور نہیں؛ وہ ذہنی طور پر مضبوط ہے۔

جو اختلاف کے باوجود ادب قائم رکھتا ہے، وہ کمزور نہیں؛ وہ اپنے کردار کی حفاظت کر رہا ہے۔


ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

اگر نوجوان اپنی زندگی میں برداشت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو چند اصولوں کو اپنا معمول بنائیں:

غصے کی حالت میں فوری جواب نہ دیں۔

سوشل میڈیا پر کوئی تحریر یا تبصرہ کرنے سے پہلے اسے دوبارہ پڑھیں، یا اپنے سے سینئر شخص سے نظرِ ثانی کروا لیں۔

اختلاف کرنے والے کی بات مکمل سنیں۔

ہر تنقید کو اپنی توہین نہ سمجھیں۔

اپنی غلطی تسلیم کرنے کی عادت پیدا کریں۔

معاف کرنے کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی قوت سمجھیں۔

غصے کے وقت خاموشی اختیار کریں اور اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کی کوشش کریں۔


آج کا نوجوان، آج کی ذمہ داری

یاد رکھیے! نوجوان صرف قوم کا مستقبل نہیں، آج کا کردار بھی ہیں۔

اگر آج کا نوجوان برداشت، حلم، عفو اور حسنِ اخلاق اختیار کرے گا تو کل کا معاشرہ مضبوط ہوگا۔

لیکن اگر ہر اختلاف غصے، ہر تنقید دشمنی اور ہر بحث انا کا مسئلہ بن گئی تو ہمارے پاس علم تو ہوگا، مگر حکمت نہیں؛ زبان تو ہوگی، مگر اخلاق نہیں؛ رائے تو ہوگی، مگر برداشت نہیں۔

اسلام ہمیں صرف عبادات نہیں سکھاتا، بلکہ ایک بہتر انسان بننا بھی سکھاتا ہے۔


دعا

اللہ کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں غصے پر قابو پانے، دوسروں کو معاف کرنے، اختلاف میں ادب قائم رکھنے، تنقید کو برداشت کرنے اور اپنے نفس کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ ہماری نوجوان نسل کو حلم، صبر، برداشت، حسنِ اخلاق اور حکمت عطا فرمائے، اور ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہِ النبی الامین ﷺ۔


اشاعتِ علم اور حصولِ ثواب کی نیت سے

التجاء ہے کہ اس تحریر کو پڑھ کر ثواب کی نیت سے اپنے دوست و احباب اور دوسرے گروپس میں ضرور شیئر فرمائیں، تاکہ یہ اہم پیغام مزید لوگوں تک پہنچ سکے۔

جزاکم اللہ خیراً کثیراً۔

اوپر تک سکرول کریں۔