ختمِ نبوت کے قانون کو ’’کالا قانون‘‘ کہنا: آزادیِ اظہار یا اسلام پر حملہ؟

یہ مضمون پڑھیں :English|اردو|العربية

آج کے دور میں آزادیِ اظہار کے نام پر مختلف قسم کے بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اختلافِ رائے، تنقید اور علمی گفتگو معاشرے کا حصہ ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ احترام، ذمہ داری اور حدود کا ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔

مسلمانوں کے لیے عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی اور نہایت اہم عقائد میں سے ہے۔ لہٰذا اس عقیدے کے تحفظ سے متعلق کسی قانون کو توہین آمیز انداز میں ’’کالا قانون‘‘ کہنا محض ایک عام قانونی اختلاف نہیں رہتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے ایک بنیادی مذہبی عقیدے سے متعلق انتہائی حساس معاملہ بن جاتا ہے۔


عقیدۂ ختمِ نبوت: اسلام کا بنیادی عقیدہ

عقیدۂ ختمِ نبوت کسی ایک جماعت یا طبقے کا عقیدہ نہیں، بلکہ قرآن و سنت سے ثابت ایک بنیادی اسلامی عقیدہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾

ترجمہ:
’’محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔‘‘

(سورۃ الاحزاب: 40)

یہ آیتِ مبارکہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے بنیادی قرآنی دلائل میں سے ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اور سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کی مثال ایک خوبصورت عمارت سے بیان فرمائی جس میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی تھی، پھر فرمایا کہ:

’’میں وہ آخری اینٹ ہوں۔‘‘

(صحیح مسلم)

یعنی آپ ﷺ نے سلسلۂ نبوت کو مکمل فرما دیا۔


آزادیٔ اظہار اور باادب اختلاف

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے کہ علمی یا قانونی اختلاف اور توہین آمیز زبان ایک چیز نہیں ہیں۔

اگر کسی شخص کو کسی قانون، آئینی شق یا مذہبی معاملے پر سوال یا اختلاف ہو تو وہ اپنے مؤقف کو دلیل، تحقیق اور مہذب قانونی گفتگو کے ذریعے پیش کر سکتا ہے۔

لیکن کسی بنیادی مذہبی عقیدے یا اس کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قانون کو تحقیر آمیز الفاظ سے پکارنا محض ’’آزادیٔ اظہار‘‘ کے نام پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آزادیٔ اظہار کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں اختلاف کی گنجائش ہونی چاہیے، لیکن ساتھ ہی لوگوں کے بنیادی مذہبی جذبات اور عقائد کا احترام بھی ضروری ہے۔


علماء اور امت کی ذمہ داری

صدیوں سے مسلم علماء نے قرآن و سنت کی روشنی میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی وضاحت اور حفاظت فرمائی ہے۔

اسلامی تعلیمات کا بنیادی مؤقف واضح ہے:

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

لہٰذا خصوصاً نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ محض سوشل میڈیا کی بحثوں اور جذباتی نعروں پر اکتفا نہ کرے، بلکہ قرآن و سنت کا مطالعہ کرے اور معتبر علماء سے دین کی بنیادی تعلیمات حاصل کرے۔

علم انسان کے یقین کو مضبوط کرتا ہے، جبکہ لاعلمی اسے شبہات اور گمراہی کا شکار بنا سکتی ہے۔


عقیدے کی حفاظت علم کے ذریعے

عقیدۂ ختمِ نبوت کا تحفظ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے ایمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ہمیں اپنے عقائد کو سمجھنا، ان کی بنیادوں کو جاننا اور انہیں حکمت، علم، دلیل اور اچھے اخلاق کے ساتھ آگے پہنچانا چاہیے۔

اسی طرح کسی قانون یا پالیسی سے متعلق اختلاف کو بھی پرامن، قانونی اور ذمہ دارانہ طریقے سے پیش کیا جانا چاہیے۔

دین کے تحفظ کے نام پر قانون ہاتھ میں لینا یا انفرادی طور پر کسی کے خلاف تشدد کرنا درست طرزِ عمل نہیں۔ ایسے معاملات میں قانونی اداروں اور عدالتی نظام سے رجوع کرنا چاہیے۔


حکومت اور معاشرے کے نام پیغام

حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت جیسے حساس مذہبی معاملات کی اہمیت کو سمجھیں اور ایسے معاملات کو قانون اور انصاف کے مطابق ذمہ داری سے دیکھیں۔

اگر کوئی شخص مذہبی اشتعال انگیزی، نفرت یا کسی دوسرے غیر قانونی عمل کا مرتکب ہو تو اس کے خلاف قانونی کارروائی اور باقاعدہ عدالتی طریقۂ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔

کسی بھی فرد کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

مذہبی عقائد کا احترام اور قانون کی پاسداری ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ دونوں معاشرتی ذمہ داریوں کا حصہ ہیں۔


ہماری ذمہ داری کیا ہے؟

عقیدۂ ختمِ نبوت محض بحث کا ایک موضوع نہیں بلکہ مسلمانوں کے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ اس عقیدے کو:

  • علم کے ذریعے سمجھیں
  • قرآن و سنت کی روشنی میں مضبوط کریں
  • اپنی نئی نسل تک منتقل کریں
  • حکمت اور اچھے اخلاق کے ساتھ بیان کریں
  • اور اپنے حقوق و مطالبات کے لیے قانونی اور پُرامن ذرائع اختیار کریں

اختتامیہ

مذہبی عقائد کا تحفظ ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے، لیکن مذہبی اشتعال یا توہین کے جواب میں بھی حکمت، عدل، صبر اور قانون کی حدود کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

آئیے اپنے ایمان کو جہالت کے بجائے علم سے مضبوط کریں، محض نعروں کے بجائے قرآن و سنت کی تعلیمات کو سمجھیں، اور غصے کے بجائے حکمت اور قانونی طریقوں سے اپنے مؤقف کو پیش کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عقیدۂ ختمِ نبوت پر ثابت قدم رکھے، ہمیں اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سچی محبت و غلامی عطا فرمائے، ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے، اور ہمیں یہ عظیم عقیدہ آنے والی نسلوں تک صحیح علم اور حکمت کے ساتھ پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہِ النبی الامین ﷺ۔

جزاکم اللہ خیراً کثیراً۔

اوپر تک سکرول کریں۔