ایک زمانہ تھا جب جھوٹ ایک شخص کی زبان سے نکلتا اور چند کانوں تک پہنچتا تھا۔ پھر وقت بدلا، اخبارات آئے، ریڈیو آیا، ٹیلی ویژن آیا اور جھوٹ کی رسائی بڑھتی گئی۔ مگر آج کا ڈیجیٹل دور اپنے ساتھ جھوٹ کی ایسی رفتار لے کر آیا ہے کہ ایک شخص کا جھوٹ چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں کی زبان بن سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک خبر سامنے آتی ہے، عنوان چونکا دینے والا ہوتا ہے، تصویر جذبات بھڑکانے والی ہوتی ہے اور انسان تحقیق کیے بغیر اسے آگے بڑھا دیتا ہے۔ یوں ایک شخص کا شک، دوسرے کا یقین اور تیسرے کا پیغام بن جاتا ہے۔ چند لمحوں میں ایک بے بنیاد بات “حقیقت” کا روپ دھار لیتی ہے۔
قرآنِ مجید کا رہنما اصول
قرآنِ مجید فرقانِ حمید نے انسان کو خبر کے معاملے میں ایک عظیم اصول عطا فرمایا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾
ترجمہ:
“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو۔”
سورۃ الحجرات، پارہ 26، آیت 6
یہ صرف ایک آیت نہیں، بلکہ ڈیجیٹل دور کے لیے ایک عظیم اخلاقی اصول ہے۔
آج “خبر لانے والا” صرف کوئی شخص نہیں؛ ایک فیس بک پوسٹ، واٹس ایپ پیغام، یوٹیوب ویڈیو یا نامعلوم ویب سائٹ بھی خبر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
سوال یہ ہے:
کیا ہم خبر کو قبول کرنے سے پہلے تحقیق کرتے ہیں؟
ہر سنی سنائی بات آگے بڑھانا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرتا پھرے۔”
صحیح مسلم، مقدمہ، حدیث: 5، باب: النهي عن الحديث بكل ما سمع
ذرا سوچئے!
ہم میں سے کتنے لوگ روزانہ ایسی باتیں آگے بھیجتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں خود معلوم نہیں ہوتا کہ وہ درست ہیں یا نہیں؟
کبھی لکھا ہوتا ہے:
“یہ خبر ابھی ابھی موصول ہوئی ہے۔”
کبھی:
“فوری طور پر سب کو شیئر کریں۔”
اور کبھی:
“ایک بڑے عالم نے فرمایا ہے۔”
مگر جب تحقیق کی جائے تو نہ خبر کا کوئی معتبر ذریعہ ملتا ہے، نہ اصل حوالہ۔
صرف اس لیے کہ کوئی بات بہت سے لوگوں نے شیئر کی ہے، ضروری نہیں کہ وہ سچ بھی ہو۔
جھوٹ کی ایک خطرناک شکل: کردار کشی
جھوٹ کی ایک خطرناک شکل کردار کشی ہے۔
کسی شخص کے بارے میں ایک الزام لگا دیا گیا، ایک تصویر لگا دی گئی یا ایک ویڈیو کا ٹکڑا شیئر کر دیا گیا، پھر لوگ تبصرے شروع کر دیتے ہیں۔
جس شخص کو اپنی صفائی کا موقع بھی نہیں ملا، وہ ہزاروں لوگوں کی نظروں میں مجرم بن چکا ہوتا ہے۔
یہ صرف ایک پوسٹ نہیں ہوتی؛ اس کے پیچھے ایک انسان کی عزت، خاندان، روزگار اور معاشرتی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
قرآن ہمیں دوسروں کی عزت کا بھی حکم دیتا ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾
ترجمہ:
“اور تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔”
سورۃ الحجرات، پارہ 26، آیت 12
آج غیبت صرف محفل میں بیٹھ کر نہیں ہوتی؛ کبھی وہ اسکرین پر لکھی جاتی ہے، کبھی پوسٹ کی شکل میں، کبھی کمنٹ میں اور کبھی کسی کی نجی بات کو عوام کے سامنے لا کر۔
فرق صرف جگہ کا ہے، اخلاقی ذمہ داری اپنی جگہ باقی ہے۔
“Share” کا بٹن بھی ایک امتحان ہے
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ “Share” کا بٹن صرف ٹیکنالوجی کا بٹن نہیں، بلکہ ہماری اخلاقی ذمہ داری کا امتحان بھی ہے۔
اگر خبر غلط ہوئی تو ہم صرف اسے پڑھنے والے نہیں، بلکہ اسے پھیلانے والے بھی بن سکتے ہیں۔
اسی لیے ہر خبر کے سامنے تین سوال ضرور رکھیے:
یہ خبر کہاں سے آئی؟
کیا اس کا کوئی معتبر ثبوت موجود ہے؟
اور اگر یہ غلط ہوئی تو اس کے نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟
تحقیق میں ایک لمحہ، نقصان سے بچنے کا ذریعہ
یاد رکھیے!
جھوٹ کی رفتار جتنی بھی تیز ہو، مسلمان کی تحقیق اس سے تیز ہونی چاہیے۔
کیونکہ ایک لمحے کی جلد بازی کسی کی عزت چھین سکتی ہے، جبکہ ایک لمحے کی تحقیق ایک بڑے فتنے کو روک سکتی ہے۔
لہٰذا خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے رکیں، سوچیں اور تحقیق کریں۔
ممکن ہے آپ کا یہی ایک لمحہ کسی انسان کی عزت محفوظ کر دے اور کسی بڑے نقصان کو پھیلنے سے روک دے۔
دعا
اللہ کریم ہمیں ان باتوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں ہر خبر کی تحقیق کرنے، دوسروں کی عزت کی حفاظت کرنے اور جھوٹی یا غیر مصدقہ باتیں پھیلانے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
التجاء
یہ تحریر پڑھ کر دوسرے گروپس اور دوست احباب کو ضرور شیئر فرمائیں، تاکہ ڈیجیٹل دور میں تحقیق، ذمہ داری اور سچائی کا شعور عام ہو۔
جزاکم اللہ خیراً کثیراً۔


