ڈیجیٹل دور میں جھوٹ کی نئی شکلیں قسط (3)

یہ مضمون پڑھیں :English|اردو|العربية
When a person stands before a mirror

انسان جب آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اسے اپنا چہرہ دکھائی دیتا ہے، مگر جب سوشل میڈیا کی اسکرین کے سامنے بیٹھتا ہے تو اکثر اپنے لیے ایسا چہرہ بناتا ہے جو حقیقت میں ہوتا ہی نہیں۔

یہ ڈیجیٹل دور کا ایک عجیب تضاد ہے۔ ہماری تصویریں حقیقت سے زیادہ خوبصورت دکھائی دیتی ہیں، ہماری زندگی حقیقت سے زیادہ خوشحال نظر آتی ہے، اور بعض اوقات ہمارے الفاظ ہماری اصل شخصیت سے زیادہ پاکیزہ محسوس ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس مصنوعی دنیا میں سچ کہاں کھڑا ہے؟

جھوٹ اب صرف زبان سے بولے جانے والے الفاظ کا نام نہیں رہا۔ جعلی تصویر، مصنوعی ویڈیو، تبدیل شدہ آواز، فرضی شناخت، جعلی خبر اور آدھی سچائی بھی جھوٹ اور فریب کے نئے دروازے بن چکے ہیں۔

کسی کی تصویر کو تبدیل کرکے اسے ایسی جگہ دکھانا جہاں وہ کبھی گیا ہی نہیں، کسی کی آواز کو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تبدیل کرکے اس سے ایسا جملہ منسوب کرنا جو اس نے کبھی کہا ہی نہیں، یا کسی پرانی ویڈیو کو کسی نئے واقعے سے جوڑ دینا—یہ سب ایسے طریقے ہیں جن کے ذریعے حقیقت کو مسخ کیا جا سکتا ہے۔

اللہ رب العالمین قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ

ترجمہ:
“اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں۔”

(سورۃ بنی اسرائیل، پارہ 15، آیت 36)

یہ آیت ہمیں صرف بولنے کے معاملے میں ہی نہیں، بلکہ دعویٰ کرنے، کسی بات کو نقل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے میں بھی احتیاط کا درس دیتی ہے۔


ایک اور خطرناک صورت: آدھی سچائی

جھوٹ کی ایک اور خطرناک صورت آدھی سچائی ہے۔

کبھی انسان براہِ راست جھوٹ نہیں بولتا، مگر حقیقت کا صرف وہ حصہ دکھاتا ہے جس سے مطلوبہ تاثر پیدا ہو۔

ایک تصویر اصلی ہوتی ہے، مگر اس کا پس منظر چھپا دیا جاتا ہے۔

ایک جملہ واقعی بولا گیا ہوتا ہے، مگر اس سے پہلے اور بعد کے الفاظ حذف کر دیے جاتے ہیں۔

یوں سچ کے چند ٹکڑوں سے ایک جھوٹا تاثر تعمیر کر دیا جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے دو رُخے شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا:

’’تم لوگوں میں سے بدترین شخص اسے پاؤ گے جس کے دو چہرے ہیں، ان کے پاس ایک چہرہ لے کر آتا ہے اور اُن کے پاس دوسرا چہرہ لے کر آتا ہے۔‘‘

(صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، بَابُ ذَمِّ ذِي الْوَجْهَيْنِ وَتَحْرِيمِ فِعْلِهِ، حدیث 2625)

سچائی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم ایک شخص کے پاس جا کر کچھ اور کہیں اور دوسرے کے پاس جا کر کچھ اور۔

بلکہ سچائی یہ بھی ہے کہ ہم کسی حقیقت کو جان بوجھ کر اس انداز میں پیش نہ کریں کہ دیکھنے یا سننے والا دھوکے میں مبتلا ہو جائے۔


میڈیا کو کردارکشی کا ذریعہ بنانا

آج کے دور میں سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کو بعض اوقات حقائق سامنے لانے کے بجائے کسی کی کردارکشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

محض الزامات، ادھوری معلومات اور بے بنیاد خبروں کے ذریعے کسی کی عزت و شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

افسوس کہ تحقیق اور تصدیق کے بغیر پھیلائی جانے والی باتیں کسی کی برسوں کی محنت اور نیک نامی کو چند لمحوں میں داغ دار کر دیتی ہیں۔

یاد رکھیے! خبر پھیلانا آسان ہے، مگر کسی کی عزت بحال کرنا انتہائی مشکل ہے۔

صحافت کی اصل ذمہ داری کردارکشی نہیں، بلکہ حقائق کی روشنی میں انصاف کا ساتھ دینا ہے۔

لیکن بدقسمتی سے بعض اوقات ایسا نہیں ہوتا۔ مسلمان کے عیبوں کو چھپانے کے بجائے اسے بدنام کیا جاتا ہے، خصوصاً مذہبی حضرات کو، حالانکہ کبھی ان کی طرف منسوب کیا جانے والا کوئی ایسا کام ہوتا ہی نہیں جس کی بنیاد پر ان کی کردارکشی کی جائے۔

پھر بعض صورتوں میں انہیں بلیک میل کرکے پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور دھمکایا بھی جاتا ہے۔

ایسے لوگ قیامت کے دن اللہ رب العزت کو کیا جواب دیں گے؟

یاد رکھیے! کسی مسلمان کی دل آزاری اور اس کی عزت کو نقصان پہنچانا محض ایک معاشرتی مسئلہ نہیں، بلکہ اللہ رب العالمین کی ناراضی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اللہ رب العالمین اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے:

وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا

ترجمہ:
“اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کیے ستاتے ہیں، تو انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھا لیا ہے۔”

(سورۃ الاحزاب، پارہ 22، آیت 57)


مسلمان کو ایذا دینے سے بچنا

کسی مسلمان کو ایذا دینے والے شخص کے متعلق حضور خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:

“جس نے (بلا وجہ شرعی) کسی مسلمان کو ایذا دی، اس نے مجھے ایذا دی، اور جس نے مجھے ایذا دی، اس نے اللہ عزوجل کو ایذا دی۔”

(معجم الاوسط، حدیث 3607)

اس لیے کسی مسلمان کی عزت، آبرو اور ذاتی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انتہائی احتیاط ضروری ہے۔


آج “بات” صرف زبان سے نہیں نکلتی

آج “بات” صرف زبان سے نہیں نکلتی؛

یہ انگلیوں سے بھی نکلتی ہے،
کی بورڈ سے بھی نکلتی ہے،
تصویر کے ذریعے بھی پہنچتی ہے،
اور ایک کلک سے دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے۔

اس لیے ڈیجیٹل دنیا میں سچائی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم جھوٹ نہ بولیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ:

  • ہم جھوٹ نہ بنائیں۔
  • جھوٹ نہ پھیلائیں۔
  • حقیقت کو مسخ نہ کریں۔
  • کسی دوسرے کے نام سے وہ بات منسوب نہ کریں جو اس نے کہی ہی نہیں۔
  • افواہوں کو تحقیق کے بغیر آگے نہ بڑھائیں۔

جو لوگ الٹی سیدھی خبریں اپنے پاس سے بنا کر پھیلاتے ہیں، کسی کو بدنام کرتے ہیں اور افواہیں عام کرتے ہیں، انہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ فرمان یاد رکھنا چاہیے:

إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

ترجمہ:
“وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔”

(سورۃ النور، پارہ 18، آیت 19)


سچائی کا امین بننے کی کوشش کریں

اللہ کریم ہمیں ایک دوسرے کی عزت و آبرو کا تحفظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

یہی احساس انسان کو ڈیجیٹل دنیا میں بھی سچائی کا امین بنا سکتا ہے۔

ہمیں ہر خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے سوچنا چاہیے:

کیا یہ بات واقعی درست ہے؟
کیا اس کا کوئی معتبر ذریعہ موجود ہے؟
کیا اسے آگے بڑھانے سے کسی کی عزت متاثر تو نہیں ہوگی؟

کیونکہ ایک کلک کسی کی عزت کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ ایک لمحے کی تحقیق کسی بڑے فتنے کو روک سکتی ہے۔


مزید معلومات کے لیے

اس موضوع کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے قبلہ شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کا مایہ ناز رسالہ “اخبار کے بارے میں سوال جواب” کا مطالعہ فرمائیں۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں ان باتوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔


التجاء

التجاء ہے کہ یہ تحریر پڑھ کر دوسرے گروپوں اور دوست احباب کو لازمی شیئر فرمائیں، تاکہ سچائی، ذمہ داری اور دوسروں کی عزت کے تحفظ کا شعور عام ہو۔

جزاکم اللہ خیراً کثیراً۔

اوپر تک سکرول کریں۔