جھوٹ ہمیشہ سے انسان کے کردار کا ایک خطرناک مرض رہا ہے، مگر ڈیجیٹل دور نے اسے نئی زبان، نئی رفتار اور نئی شکلیں دے دی ہیں۔ پہلے جھوٹ ایک زبان سے نکل کر چند لوگوں تک پہنچتا تھا، آج ایک جھوٹا جملہ، ایک جعلی تصویر، ایک من گھڑت خبر یا چند سیکنڈ کی ایڈیٹ شدہ ویڈیو ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔
یوں جھوٹ صرف ایک گناہ نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا ڈیجیٹل طوفان بن جاتا ہے جو معاشرے کے اعتماد، عزت اور سکون کو بہا لے جاتا ہے۔
قرآنِ کریم کی جھوٹ سے بچنے کی واضح تعلیم
قرآنِ کریم نے جھوٹ سے بچنے کی نہایت واضح تعلیم دی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ﴾
ترجمہ:
“اور جھوٹی بات سے بچو۔”
سورۃ الحج، پارہ 17، آیت 30
یہ آیت صرف روایتی جھوٹ تک محدود نہیں؛ جھوٹی خبر، جعلی دعویٰ، غلط الزام، من گھڑت پوسٹ اور حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا بھی اسی اخلاقی ذمہ داری کے دائرے میں آتا ہے۔
خبر دیکھ لینا اسے سچ نہیں بنا دیتا
آج سوشل میڈیا پر ایک خطرناک رویہ عام ہے: خبر دیکھی، پسند آئی اور فوراً شیئر کر دی۔
کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ:
کیا یہ خبر واقعی صحیح ہے؟
قرآنِ کریم ہمیں اس معاملے میں بھی واضح اصول عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾
ترجمہ:
“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو۔”
سورۃ الحجرات، پارہ 26، آیت 6
گویا مسلمان کی انگلی صرف موبائل کی اسکرین پر نہیں چلتی، اس کے ساتھ اس کا ایمان اور ضمیر بھی چلتا ہے۔
“Forward” یا “Share” کا بٹن دبانے سے پہلے ایک لمحہ رک جانا بھی کبھی کبھی عبادت بن جاتا ہے، اگر اس رکنے سے کسی بے گناہ کی عزت محفوظ ہو جائے۔
جعلی تصاویر اور مصنوعی ویڈیوز
جھوٹ کی ایک نئی شکل جعلی تصاویر اور مصنوعی ویڈیوز ہیں۔
کسی شخص کی تصویر کو تبدیل کرکے اسے ایسا دکھانا جو حقیقت میں وہ ہے ہی نہیں، یا کسی کی آواز اور ویڈیو کو اصل سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا، بظاہر ٹیکنالوجی کا استعمال ہے، مگر اخلاقی اعتبار سے یہ کسی انسان پر بہتان، دھوکے اور نقصان کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
آدھی سچائی بھی فریب کا راستہ بن سکتی ہے
جھوٹ کی ایک اور شکل آدھی سچائی ہے۔
مکمل حقیقت چھپا کر صرف وہ حصہ بیان کرنا جو کسی شخص کے خلاف منفی تاثر پیدا کرے، بھی فریب اور گمراہی کا راستہ بن سکتا ہے۔
کبھی تصویر سچی ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ لکھی ہوئی کہانی جھوٹی ہوتی ہے۔
کبھی ویڈیو اصلی ہوتی ہے مگر اس کا عنوان من گھڑت ہوتا ہے۔
اور کبھی پرانی خبر کو نئی خبر بنا کر پھیلا دیا جاتا ہے۔
اس لیے صرف کسی تصویر یا ویڈیو کا اصلی ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کے ساتھ بیان کی جانے والی پوری کہانی بھی سچی ہے۔
سنتِ نبوی ﷺ میں جھوٹ کی سنگینی
رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ کی سنگینی اور سچائی کی فضیلت کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
“تم سچ کو لازم پکڑو، کیونکہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ گناہ اور بدکاری کی طرف لے جاتا ہے، اور بدکاری جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔ آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کی تلاش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔”
صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، باب قبح الکذب وحسن الصدق وفضله، حدیث 6637
ذرا غور کیجیے!
آج جھوٹ صرف زبان سے نہیں بولا جاتا۔
کبھی انگلیاں جھوٹ لکھتی ہیں،
کبھی کیمرہ جھوٹ دکھاتا ہے،
کبھی ایڈیٹنگ جھوٹ بناتی ہے،
اور کبھی ایک کلک جھوٹ کو دنیا بھر میں پھیلا دیتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں ہماری ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ہمیں ہر خبر کا محض ناقل بننے کے بجائے اس کے سچ ہونے کا نگہبان بننا ہوگا۔
ہر وائرل چیز قابلِ اشاعت نہیں ہوتی، اور ہر مقبول بات قابلِ یقین نہیں ہوتی۔
یاد رکھیے!
انٹرنیٹ کی دنیا میں الفاظ اور پوسٹس حذف کیے جا سکتے ہیں، مگر ان کے اثرات طویل عرصے تک باقی رہ سکتے ہیں۔
کسی کی عزت متاثر ہو سکتی ہے، کسی کا گھر متاثر ہو سکتا ہے، کسی کے کاروبار کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اور کسی انسان کی پوری زندگی ایک جھوٹی پوسٹ سے متاثر ہو سکتی ہے۔
اس لیے جب بھی انگلی “Share” کے بٹن پر جائے تو دل سے چند سوال ضرور کیجیے:
کیا یہ بات سچ ہے؟
کیا میرے پاس اس کی تصدیق کے لیے کوئی معتبر دلیل یا قابلِ اعتماد ذریعہ موجود ہے؟
اور اگر یہ بات جھوٹ نکلی تو کیا میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی اس ذمہ داری کا جواب دے سکوں گا؟
شاید یہی چند لمحوں کی احتیاط ہمیں ڈیجیٹل دور کے جھوٹ کے سیلاب میں سچائی کا محافظ بنا دے۔
دعا
اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں اپنے اقوال و اعمال میں سچائی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں معلومات شیئر کرنے سے پہلے ان کی تحقیق کرنے کی صلاحیت عطا فرمائے، ہماری زبان، قلم اور انگلیوں کو جھوٹ اور بہتان پھیلانے سے محفوظ فرمائے، اور ہمیں ان باتوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
ایک گزارش
اگر آپ کو یہ تحریر مفید لگی ہو تو اسے اپنے دوست احباب، رشتہ داروں اور مختلف گروپس میں ضرور شیئر فرمائیں۔ ممکن ہے یہ تحریر ڈیجیٹل دنیا میں جھوٹ اور غلط معلومات سے بچنے کے لیے کسی کے شعور کو بیدار کرنے کا ذریعہ بن جائے۔
جزاکم اللہ خیراً کثیراً۔


