ایک لمحۂ فکریہ
انسان کی زندگی میں کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں جو اگر دل میں اتر جائیں تو پوری زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں۔
قرآنِ کریم کی کوئی آیت، سرکارِ کریم ﷺ کی کوئی حدیث، کسی بزرگ کی حکمت بھری بات، استاد کی ڈانٹ، والدین کی تنبیہ یا کسی مخلص دوست کی نصیحت—یہ سب دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو سنبھلنے اور اپنی اصلاح کرنے کے مواقع ہیں۔
مگر سوال یہ ہے:
ہم نصیحت کیوں نہیں سنتے؟
نصیحت ہمارے کانوں تک تو پہنچتی ہے، لیکن دل تک کیوں نہیں پہنچتی؟
صرف سننا کافی نہیں
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ
ترجمہ:
“جو کان لگا کر بات سنتے ہیں پھر اس کے بہتر پر چلتے ہیں، یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی اور یہ ہیں جن کو عقل ہے۔”
(سورۃ الزمر، پارہ 23، آیت 18)
غور کیجیے!
قرآنِ کریم نے صرف سننے کی تعریف نہیں کی، بلکہ سن کر بہترین بات کی پیروی کرنے کو خوبی قرار دیا ہے۔
اصل مسئلہ ہمارے کانوں کا نہیں، ہمارے دلوں کا ہے۔
ہم نصیحت کیوں رد کرتے ہیں؟
ہم نصیحت اس لیے نہیں سنتے کہ ہمیں اپنی غلطی تسلیم کرنا مشکل لگتا ہے۔
انسان کو اپنی ذات سے محبت ہوتی ہے، اس لیے جب کوئی ہماری کمزوری کی طرف توجہ دلاتا ہے تو ہمیں نصیحت نہیں بلکہ تنقید محسوس ہوتی ہے۔
ہم یہ دیکھنے کے بجائے کہ بات درست ہے یا نہیں، فوراً یہ سوچنے لگتے ہیں:
“مجھے کہنے والا کون ہوتا ہے؟”
“یہ کل کا بچہ ہمیں کیوں سمجھا رہا ہے؟ اسے آتا ہی کیا ہے؟”
“ہم تو بچپن سے اپنے بڑوں کو ایسا ہی کرتے دیکھتے آرہے ہیں۔”
“ہمارے پاس تو فلاں فلاں لوگ بھی آتے ہیں، وہ ہمیں کچھ نہیں کہتے، یہ کیوں کہہ رہا ہے؟”
یہی رویہ آہستہ آہستہ ہمارے اندر ایسی کیفیت پیدا کرتا ہے جو نصیحت کے دروازے بند کر دیتی ہے۔
اور یوں تکبر انسان کی اصلاح کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
نصیحت فائدہ پہنچانے کا ذریعہ ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ﴾
ترجمہ:
“اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔”
(سورۃ الذاریات، پارہ 27، آیت 55)
نصیحت دراصل محبت اور خیرخواہی کی ایک شکل ہے۔
جو شخص ہماری غلطی دیکھ کر بھی خاموش رہتا ہے، وہ شاید ہمیں وقتی طور پر خوش رکھتا ہے۔
لیکن جو شخص خیرخواہی کے ساتھ ہماری اصلاح کی کوشش کرتا ہے، وہ ہمارے مستقبل کی فکر کرتا ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الدِّينُ النَّصِيحَةُ
“دین خیرخواہی کا نام ہے۔”
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
“کس کے لیے؟”
فرمایا:
“اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ اور عام مسلمانوں کے لیے۔”
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان أن الدین النصيحة، حدیث 55)
ہمیں وہی نصیحت کیوں پسند ہے جو ہماری مرضی کی ہو؟
ہماری ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ ہم اکثر وہ نصیحت پسند کرتے ہیں جو ہماری خواہشات کے مطابق ہو۔
جو ہماری تعریف کرے، وہ ہمیں مخلص لگتا ہے۔
جو ہماری اصلاح کرے، وہ ہمیں مخالف محسوس ہونے لگتا ہے۔
ہم ان الفاظ کو خوشی سے قبول کرتے ہیں جو ہمارے نفس کو اچھے لگیں، لیکن ان باتوں سے بچنے لگتے ہیں جو ہماری خامیوں کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔
جب دل دنیا کی خواہشات، انا، ضد، حسد اور خود پسندی سے بھر جائے تو پھر سوال یہ ہے:
نصیحت کے لیے دل میں جگہ کہاں باقی رہتی ہے؟
زندگی مختصر ہے، نصیحتیں بہت ہیں
زندگی بہت مختصر ہے۔
نصیحتیں روز ہمارے دروازے پر دستک دیتی ہیں۔
کبھی قرآنِ کریم کی صورت میں۔
کبھی حدیثِ مبارک کی صورت میں۔
کبھی کسی بزرگ کی زبان سے۔
کبھی استاد کے الفاظ میں۔
کبھی والدین کی تنبیہ بن کر۔
اور کبھی کسی مخلص دوست کی خیرخواہانہ بات بن کر۔
خوش نصیب وہ ہے جو نصیحت کو اپنی توہین نہیں بلکہ اپنی اصلاح کا آئینہ سمجھ لے۔
کیونکہ جو شخص دنیا میں اپنی غلطی تسلیم کرکے اپنی اصلاح کرلیتا ہے، اسے آخرت میں بہت سے پچھتاووں سے بچنے کا موقع مل جاتا ہے۔
نصیحت قبول کرنے کی عادت پیدا کریں
کسی کی بات رد کرنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے خود سے سوال کریں:
“کیا اس نصیحت میں میرے لیے کوئی ایسی بات ہے جس کی مجھے اصلاح کرنی چاہیے؟”
ہر بات کو بغیر سوچے قبول کرنا ضروری نہیں، لیکن اتنی عاجزی ضرور ہونی چاہیے کہ انسان بات سنے، غور کرے اور جب حق واضح ہوجائے تو اسے قبول کرنے میں تکبر نہ کرے۔
کبھی نصیحت کرنے والا ہم سے عمر میں چھوٹا ہوسکتا ہے۔
کبھی اس کا تجربہ ہم سے کم ہوسکتا ہے۔
لیکن سچ صرف اس لیے جھوٹ نہیں ہوجاتا کہ اسے بیان کرنے والا ہم سے کم عمر ہے۔
مومن کو نصیحت کرنے والے کی حیثیت سے زیادہ نصیحت کی سچائی کی فکر ہونی چاہیے۔
دعا
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں ان باتوں کو سمجھنے، اپنی غلطیوں کو پہچاننے، مخلصانہ نصیحت قبول کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عاجزی، حکمت، اخلاص اور حق بات کو قبول کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
التجاء
یہ تحریر پڑھ کر اپنے دوست احباب اور دوسرے گروپس میں ثواب کی نیت سے ضرور شیئر فرمائیں تاکہ یہ مفید نصیحت دوسروں تک بھی پہنچ سکے۔
جزاکم اللہ خیراً کثیراً


