سوشل میڈیا کے دور میں اخلاص پر ایک فکری تحریر
آج سوشل میڈیا نے انسان کو ایک عجیب آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ پہلے انسان لوگوں کی محفلوں میں اپنی تعریف سننا چاہتا تھا، اب موبائل کی اسکرین پر لائکس، کمنٹس، ویوز اور فولورز کی تعداد دیکھ کر اپنی قدر و قیمت کا فیصلہ کرنے لگا ہے۔
پوسٹ پر زیادہ لائکس آئیں تو خوشی، کم آئیں تو بے چینی؛ فولورز بڑھیں تو فخر، کم ہوں تو احساسِ کمتری۔
یہ کیفیت صرف سوشل میڈیا کے استعمال تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس وقت نفسیاتی غلامی بن جاتی ہے جب انسان کی خوشی، خود اعتمادی اور ذہنی سکون دوسروں کے ردِعمل سے وابستہ ہوجائے۔
قرآنِ کریم اور اخلاص
اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
ترجمہ:
“اور انہیں تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں، اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔”
(سورۃ البینہ، آیت 5، پارہ 30)
رسول اللہ ﷺ نے بھی ریا اور شہرت طلبی سے خبردار فرمایا:
“جس نے (دنیا میں) کسی کو سنانے کے لیے عمل کیا، اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن اس کا عیب) سنائے گا، اور جس نے (دنیا میں) کسی کو دکھانے کے لیے عبادت کی، اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن اس کے عیوب لوگوں کو دکھائے گا۔”
(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعة، حدیث 6499)
لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ:
“میری پوسٹ کو کتنے لوگوں نے پسند کیا؟”
بلکہ اصل سوال یہ ہے:
“میں نے یہ پوسٹ کس کے لیے کی؟”
اگر لائکس نہ ملیں تو کیا میں پھر بھی یہ نیکی کروں گا؟
اگر جواب ہاں ہے تو اخلاص کی امید ہے۔
لیکن اگر جواب نہیں ہے تو ہمیں اپنی نیت کا جائزہ لینے اور اسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔
بزرگانِ دین کے اقوال
1۔ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے:
“اس بات میں کوئی بھلائی نہیں جس سے مقصود اللہ عزوجل کی خوشنودی نہ ہو۔”
(حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفياء، ج 1، ص 30)
2۔ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ارشاد فرمایا:
“عمل سے بڑھ کر اس کی مقبولیت کا اہتمام کرو، اس لیے کہ تقویٰ کے ساتھ کیا گیا تھوڑا عمل بھی بہت ہوتا ہے، اور جو عمل مقبول ہوجائے وہ کیوں کر تھوڑا ہوگا۔”
(حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفياء، ج 1، ص 75)
3۔ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ
حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“حدیث شریف سیکھنے سے بڑھ کر افضل عمل کوئی نہیں، بشرطیکہ نیت درست ہو۔”
(حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفياء، ج 6، ص 366)
4۔ حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ
حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“اگر تم گمنامی پر قادر ہو تو اسے اختیار کرلو۔ تمہاری تعریف نہ کی جائے تو اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں؛ جب تم اللہ پاک کے نزدیک تعریف والے ہو تو لوگوں کے درمیان مذموم ہونا تمہارے لیے ذرا بھی نقصان دہ نہیں ہے۔”
(حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفياء، ج 8، ص 89)
5۔ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“عارف کی نشانی یہ ہے کہ یادِ الٰہی میں سستی نہ کرے، حقِ بندگی ادا کرنے سے نہ اکتائے اور خدا کے سوا کسی سے دل نہ لگائے۔”
(حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفياء، ج 10، ص 39)
ایک ضروری تنبیہ
لائکس بذاتِ خود حرام نہیں، اور نہ ہی ہر تعریف ریا ہے۔
اصل خطرہ نیت اور دل کی وابستگی میں ہے۔
اگر انسان کوئی نیکی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے اور لوگ اس کی تعریف کردیں تو یہ الگ معاملہ ہے۔
لیکن اگر انسان کا دل لوگوں کی تعریف، توجہ اور پسندیدگی کا محتاج ہوجائے تو یہ ایک خطرناک کیفیت ہے۔
ایسی نیکی کریں جسے کوئی نہ دیکھے
آج ہمیں اپنے معمولات میں ایسی نیکیوں کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے جنہیں دنیا نہ دیکھے۔
کبھی ایسا صدقہ کریں جس کی تصویر نہ بنائیں۔
کبھی ایسی عبادت کریں جس کا کسی کو علم نہ ہو۔
کبھی کوئی نیکی ایسی کریں جسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
پھر اپنے دل سے سوال کریں:
“اگر آج میرے تمام فولورز ختم ہوجائیں تو کیا میرا اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی ختم ہوجائے گا؟”
یہ سوال صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے دل کا جائزہ لینے کے لیے ہے۔
لائکس صرف اعداد ہیں، اخلاص آخرت کا سرمایہ ہے
یاد رکھیں!
لائکس انگلی کی ایک حرکت ہیں۔
فولورز صرف اعداد ہیں۔
لیکن اخلاص آخرت کا سرمایہ ہے۔
لوگوں کی نظر میں مقبول ہونا حقیقی کامیابی نہیں؛
اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہونا اصل کامیابی ہے۔
اللہ کریم ہمیں اپنی نیتوں کو درست رکھنے، اخلاص اختیار کرنے اور ان باتوں کو سمجھ کر ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
التجاء
یہ تحریر پڑھ کر اپنے دوست احباب اور دوسرے گروپس میں ثواب کی نیت سے ضرور شیئر فرمائیں تاکہ مفید بات دوسروں تک بھی پہنچ سکے۔
جزاکم اللہ خیراً کثیراً


