کامیابی کے باوجود سکون کیوں نہیں؟

یہ مضمون پڑھیں :English|اردو|العربية

انسان ساری زندگی کامیابی کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ کبھی اسے اچھی ملازمت کی خواہش ہوتی ہے، کبھی کاروبار میں ترقی کی، کبھی زیادہ دولت کی، کبھی شہرت کی، کبھی بڑا گھر، اچھی گاڑی اور معاشرے میں بلند مقام حاصل کرنے کی۔

اسے لگتا ہے کہ جس دن یہ سب کچھ حاصل ہوگیا، اُس دن زندگی مکمل ہوجائے گی اور دل کو وہ سکون مل جائے گا جس کی اسے برسوں سے تلاش ہے۔

لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی مطلوبہ کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود اندر سے مطمئن نہیں ہوتے۔

منزل مل جاتی ہے، مگر دل مطمئن نہیں ہوتا۔
دولت آجاتی ہے، مگر سکون نہیں آتا۔
شہرت مل جاتی ہے، مگر تنہائی ختم نہیں ہوتی۔
لوگ تعریف کرتے ہیں، مگر انسان اپنے اندر ایک عجیب خلا محسوس کرتا رہتا ہے۔

آخر ایسا کیوں ہے؟


کامیابی اور خوشی ایک چیز نہیں

ہم نے کامیابی کا مفہوم بہت محدود کردیا ہے۔

ہمارے نزدیک کامیاب وہ شخص ہے جس کے پاس زیادہ پیسہ، بڑا عہدہ، شہرت، آسائشیں اور دنیاوی سہولتیں ہوں۔

بلاشبہ یہ چیزیں زندگی کی ضروریات اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہوسکتی ہیں، لیکن یہ دل کی ضروریات کا مکمل علاج نہیں۔

قرآنِ کریم ہمیں ایک بنیادی حقیقت بتاتا ہے:

﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾

ترجمہ:

"سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔”

(سورۃ الرعد، آیت: 28)

غور کیجیے! قرآنِ کریم نے دل کے اطمینان کو مال، شہرت یا دنیاوی کامیابی کے ساتھ نہیں جوڑا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ جوڑا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری سوچ اور قرآن کی تعلیم میں فرق پیدا ہوجاتا ہے۔


ہم منزلیں بدلتے رہتے ہیں، مگر خلا باقی رہتا ہے

انسان سوچتا ہے کہ اگر اسے ایک لاکھ روپے ماہانہ ملنے لگیں تو وہ خوش ہوجائے گا۔

پھر آمدنی بڑھتی ہے تو خواہش دس لاکھ کی ہوجاتی ہے۔

دس لاکھ ملتے ہیں تو کروڑ کی طرف نظر اٹھنے لگتی ہے۔

اسی طرح ایک چھوٹا گھر بڑے گھر میں بدل جاتا ہے، معمولی گاڑی مہنگی گاڑی بن جاتی ہے، محدود شہرت وسیع شہرت کی خواہش میں بدل جاتی ہے، لیکن دل کی طلب ختم نہیں ہوتی۔

کیوں؟

اس لیے کہ دنیاوی خواہشات کی کوئی آخری منزل نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے انسان کی اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں، اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔”

(صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث: 6439)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اگر دل کو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور قناعت حاصل نہ ہو تو دنیا کی کتنی ہی چیزیں حاصل ہوجائیں، انسان کی طلب ختم نہیں ہوتی۔


سوشل میڈیا اور مصنوعی زندگی کا اثر

آج سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

انسان اپنی حقیقی زندگی کا موازنہ دوسروں کی دکھائی جانے والی زندگی سے کرنے لگا ہے۔

اسے کسی کی نئی گاڑی نظر آتی ہے، کسی کا بیرونِ ملک سفر، کسی کا خوبصورت گھر، کسی کی کاروباری کامیابی، کسی کی شہرت اور کسی کی خوشحال زندگی۔

پھر وہ اپنے پاس موجود نعمتوں کو بھول کر ان چیزوں کا غم کرنے لگتا ہے جو اس کے پاس نہیں۔

حالانکہ جس شخص سے وہ اپنا موازنہ کر رہا ہے، اسے صرف اس کی زندگی کا خوبصورت حصہ نظر آرہا ہوتا ہے۔

اسے اس شخص کی گاڑی، گھر، دولت، سفر اور کامیابیاں نظر آتی ہیں، لیکن اس کی پریشانیاں، ذمہ داریاں، مشکلات اور اندرونی حالات نظر نہیں آتے۔

ہمیں دوسروں کی ظاہری زندگی دیکھ کر اپنی حقیقی زندگی کو کمتر سمجھنے سے بچنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ﴾

ترجمہ:

"اور اپنی آنکھیں اس چیز کی طرف نہ پھیلاؤ جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیا کی زندگی کی زینت کے طور پر برتنے کو دی ہے، تاکہ ہم انہیں اس کے ذریعے آزمائیں، اور تمہارے رب کا رزق بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔”

(سورۃ طٰہٰ، آیت: 131)

دوسروں کی نعمتوں کو مسلسل دیکھتے رہنا انسان کے دل میں محرومی کا احساس پیدا کرسکتا ہے، جبکہ وہ خود بے شمار نعمتوں میں گھرا ہوا ہوتا ہے۔


کامیابی کے ساتھ مقصد نہ ہو تو خوشی ادھوری رہتی ہے

کامیابی بذاتِ خود بری چیز نہیں۔

اسلام محنت، تجارت، علم، ترقی اور حلال دنیاوی نعمتوں سے منع نہیں کرتا۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کامیابی ہی مقصدِ زندگی بن جائے۔

ایک مسلمان کے لیے اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾

ترجمہ:

"اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔”

(سورۃ الذاریات، آیت: 56)

اگر انسان کی پوری زندگی صرف دنیا حاصل کرنے کی دوڑ بن جائے تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ بہت کچھ حاصل کرنے کے باوجود اپنے آپ سے پوچھتا ہے:

"اب کیا؟”

لیکن جس شخص کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، اس کے لیے دنیا کامیابی کی آخری منزل نہیں رہتی بلکہ آخرت کی تیاری کا میدان بن جاتی ہے۔


اصل کامیابی کیا ہے؟

اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہمارے بینک اکاؤنٹ میں کتنی رقم موجود ہے۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ ہمارے اعمال نامے میں کتنی نیکیاں موجود ہیں۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ دنیا میں ہمارا مقام کتنا بلند ہے۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ آخرت میں ہمارا مقام کیا ہوگا۔

قرآنِ کریم فرماتا ہے:

﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ﴾

ترجمہ:

"پس جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا، وہی کامیاب ہوا۔”

(سورۃ آلِ عمران، آیت: 185)

یہ آیت کامیابی کا وہ معیار بیان کرتی ہے جو دنیا کے تمام مصنوعی پیمانوں سے بلند ہے۔


آخری بات

اگر آپ نے زندگی میں بہت کچھ حاصل کرلیا ہے، لیکن پھر بھی دل خوش نہیں، تو ضروری نہیں کہ آپ کو مزید دنیاوی چیزوں کی ضرورت ہو۔

ممکن ہے آپ کو مزید دنیا نہیں، بلکہ اپنے رب سے مزید تعلق کی ضرورت ہو۔

کبھی انسان نئی چیزیں حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے اندر موجود خلا کو بھرنے کے لیے دوڑ رہا ہوتا ہے۔ لیکن دنیا کی کوئی چیز اس خلا کو مستقل طور پر نہیں بھر سکتی جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے خالی ہو۔

اس لیے اپنی کامیابیوں کا حساب ضرور کریں، مگر اپنی عبادت، شکر، قناعت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کا حساب بھی کریں۔

کیونکہ ممکن ہے جس کامیابی کو دنیا آپ کی سب سے بڑی کامیابی سمجھ رہی ہو، وہ آپ کے دل کی خوشی کی ضمانت نہ ہو۔

اور ممکن ہے ایک خاموش سجدہ، ایک سچی توبہ، ایک آنسو، ایک "الحمدللہ” اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ وہ سکون عطا کردے جس کے لیے انسان پوری زندگی دنیا بھر میں بھٹکتا رہا۔

دنیا کی کامیابی انسان کو مشہور تو بنا سکتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی معرفت ہی اسے حقیقی اطمینان عطا کرتی ہے۔

آئیے! اپنی کامیابی کو صرف دنیاوی پیمانوں سے نہ ناپیں۔ اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کریں، قناعت اختیار کریں اور اپنی دنیاوی کامیابیوں کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نفع بخش علم، صالح اعمال، سچی قناعت، اپنے ذکر کی لذت اور اپنی رضا کے حصول کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری دنیاوی کامیابیوں کو ہماری آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائے۔

آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔

اس تحریر کو پڑھ کر دوسرے گروپس اور دوست و احباب کے ساتھ لازمی شیئر فرمائیں۔

جزاکم اللہ خیراً کثیراً۔

🗓️ ۲۸ صفر المظفر ۱۴۴۸ھ، بمطابق ۱۲ اگست، بروز بدھ، ۲۰۲۶ء

کامیابی کے باوجود سکون کیوں نہیں؟

✍️ تحریر: محمد آصف اقبال رضوی المدنی عفی عنہ

انسان ساری زندگی کامیابی کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ کبھی اسے اچھی ملازمت کی خواہش ہوتی ہے، کبھی کاروبار میں ترقی کی، کبھی زیادہ دولت کی، کبھی شہرت کی، کبھی بڑا گھر، اچھی گاڑی اور معاشرے میں بلند مقام حاصل کرنے کی۔

اسے لگتا ہے کہ جس دن یہ سب کچھ حاصل ہوگیا، اُس دن زندگی مکمل ہوجائے گی اور دل کو وہ سکون مل جائے گا جس کی اسے برسوں سے تلاش ہے۔

لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی مطلوبہ کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود اندر سے مطمئن نہیں ہوتے۔

منزل مل جاتی ہے، مگر دل مطمئن نہیں ہوتا۔
دولت آجاتی ہے، مگر سکون نہیں آتا۔
شہرت مل جاتی ہے، مگر تنہائی ختم نہیں ہوتی۔
لوگ تعریف کرتے ہیں، مگر انسان اپنے اندر ایک عجیب خلا محسوس کرتا رہتا ہے۔

آخر ایسا کیوں ہے؟


کامیابی اور خوشی ایک چیز نہیں

ہم نے کامیابی کا مفہوم بہت محدود کردیا ہے۔

ہمارے نزدیک کامیاب وہ شخص ہے جس کے پاس زیادہ پیسہ، بڑا عہدہ، شہرت، آسائشیں اور دنیاوی سہولتیں ہوں۔

بلاشبہ یہ چیزیں زندگی کی ضروریات اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہوسکتی ہیں، لیکن یہ دل کی ضروریات کا مکمل علاج نہیں۔

قرآنِ کریم ہمیں ایک بنیادی حقیقت بتاتا ہے:

﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾

ترجمہ:

"سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔”

(سورۃ الرعد، آیت: 28)

غور کیجیے! قرآنِ کریم نے دل کے اطمینان کو مال، شہرت یا دنیاوی کامیابی کے ساتھ نہیں جوڑا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ جوڑا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری سوچ اور قرآن کی تعلیم میں فرق پیدا ہوجاتا ہے۔


ہم منزلیں بدلتے رہتے ہیں، مگر خلا باقی رہتا ہے

انسان سوچتا ہے کہ اگر اسے ایک لاکھ روپے ماہانہ ملنے لگیں تو وہ خوش ہوجائے گا۔

پھر آمدنی بڑھتی ہے تو خواہش دس لاکھ کی ہوجاتی ہے۔

دس لاکھ ملتے ہیں تو کروڑ کی طرف نظر اٹھنے لگتی ہے۔

اسی طرح ایک چھوٹا گھر بڑے گھر میں بدل جاتا ہے، معمولی گاڑی مہنگی گاڑی بن جاتی ہے، محدود شہرت وسیع شہرت کی خواہش میں بدل جاتی ہے، لیکن دل کی طلب ختم نہیں ہوتی۔

کیوں؟

اس لیے کہ دنیاوی خواہشات کی کوئی آخری منزل نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے انسان کی اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں، اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔”

(صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث: 6439)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اگر دل کو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور قناعت حاصل نہ ہو تو دنیا کی کتنی ہی چیزیں حاصل ہوجائیں، انسان کی طلب ختم نہیں ہوتی۔


سوشل میڈیا اور مصنوعی زندگی کا اثر

آج سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

انسان اپنی حقیقی زندگی کا موازنہ دوسروں کی دکھائی جانے والی زندگی سے کرنے لگا ہے۔

اسے کسی کی نئی گاڑی نظر آتی ہے، کسی کا بیرونِ ملک سفر، کسی کا خوبصورت گھر، کسی کی کاروباری کامیابی، کسی کی شہرت اور کسی کی خوشحال زندگی۔

پھر وہ اپنے پاس موجود نعمتوں کو بھول کر ان چیزوں کا غم کرنے لگتا ہے جو اس کے پاس نہیں۔

حالانکہ جس شخص سے وہ اپنا موازنہ کر رہا ہے، اسے صرف اس کی زندگی کا خوبصورت حصہ نظر آرہا ہوتا ہے۔

اسے اس شخص کی گاڑی، گھر، دولت، سفر اور کامیابیاں نظر آتی ہیں، لیکن اس کی پریشانیاں، ذمہ داریاں، مشکلات اور اندرونی حالات نظر نہیں آتے۔

ہمیں دوسروں کی ظاہری زندگی دیکھ کر اپنی حقیقی زندگی کو کمتر سمجھنے سے بچنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ﴾

ترجمہ:

"اور اپنی آنکھیں اس چیز کی طرف نہ پھیلاؤ جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیا کی زندگی کی زینت کے طور پر برتنے کو دی ہے، تاکہ ہم انہیں اس کے ذریعے آزمائیں، اور تمہارے رب کا رزق بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔”

(سورۃ طٰہٰ، آیت: 131)

دوسروں کی نعمتوں کو مسلسل دیکھتے رہنا انسان کے دل میں محرومی کا احساس پیدا کرسکتا ہے، جبکہ وہ خود بے شمار نعمتوں میں گھرا ہوا ہوتا ہے۔


کامیابی کے ساتھ مقصد نہ ہو تو خوشی ادھوری رہتی ہے

کامیابی بذاتِ خود بری چیز نہیں۔

اسلام محنت، تجارت، علم، ترقی اور حلال دنیاوی نعمتوں سے منع نہیں کرتا۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کامیابی ہی مقصدِ زندگی بن جائے۔

ایک مسلمان کے لیے اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾

ترجمہ:

"اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔”

(سورۃ الذاریات، آیت: 56)

اگر انسان کی پوری زندگی صرف دنیا حاصل کرنے کی دوڑ بن جائے تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ بہت کچھ حاصل کرنے کے باوجود اپنے آپ سے پوچھتا ہے:

"اب کیا؟”

لیکن جس شخص کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، اس کے لیے دنیا کامیابی کی آخری منزل نہیں رہتی بلکہ آخرت کی تیاری کا میدان بن جاتی ہے۔


اصل کامیابی کیا ہے؟

اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہمارے بینک اکاؤنٹ میں کتنی رقم موجود ہے۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ ہمارے اعمال نامے میں کتنی نیکیاں موجود ہیں۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ دنیا میں ہمارا مقام کتنا بلند ہے۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ آخرت میں ہمارا مقام کیا ہوگا۔

قرآنِ کریم فرماتا ہے:

﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ﴾

ترجمہ:

"پس جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا، وہی کامیاب ہوا۔”

(سورۃ آلِ عمران، آیت: 185)

یہ آیت کامیابی کا وہ معیار بیان کرتی ہے جو دنیا کے تمام مصنوعی پیمانوں سے بلند ہے۔


آخری بات

اگر آپ نے زندگی میں بہت کچھ حاصل کرلیا ہے، لیکن پھر بھی دل خوش نہیں، تو ضروری نہیں کہ آپ کو مزید دنیاوی چیزوں کی ضرورت ہو۔

ممکن ہے آپ کو مزید دنیا نہیں، بلکہ اپنے رب سے مزید تعلق کی ضرورت ہو۔

کبھی انسان نئی چیزیں حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے اندر موجود خلا کو بھرنے کے لیے دوڑ رہا ہوتا ہے۔ لیکن دنیا کی کوئی چیز اس خلا کو مستقل طور پر نہیں بھر سکتی جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے خالی ہو۔

اس لیے اپنی کامیابیوں کا حساب ضرور کریں، مگر اپنی عبادت، شکر، قناعت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کا حساب بھی کریں۔

کیونکہ ممکن ہے جس کامیابی کو دنیا آپ کی سب سے بڑی کامیابی سمجھ رہی ہو، وہ آپ کے دل کی خوشی کی ضمانت نہ ہو۔

اور ممکن ہے ایک خاموش سجدہ، ایک سچی توبہ، ایک آنسو، ایک "الحمدللہ” اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ وہ سکون عطا کردے جس کے لیے انسان پوری زندگی دنیا بھر میں بھٹکتا رہا۔

دنیا کی کامیابی انسان کو مشہور تو بنا سکتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی معرفت ہی اسے حقیقی اطمینان عطا کرتی ہے۔

آئیے! اپنی کامیابی کو صرف دنیاوی پیمانوں سے نہ ناپیں۔ اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کریں، قناعت اختیار کریں اور اپنی دنیاوی کامیابیوں کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نفع بخش علم، صالح اعمال، سچی قناعت، اپنے ذکر کی لذت اور اپنی رضا کے حصول کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری دنیاوی کامیابیوں کو ہماری آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائے۔

آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔

اس تحریر کو پڑھ کر دوسرے گروپس اور دوست و احباب کے ساتھ لازمی شیئر فرمائیں۔

جزاکم اللہ خیراً کثیراً۔

اوپر تک سکرول کریں۔