تعارف
آج کا دور معلومات اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے علم تک رسائی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب دینی تعلیم کے لیے مساجد، مدارس اور کتب خانوں کا رخ کرنا ضروری ہوتا تھا، لیکن آج ایک طالبِ علم اپنے گھر بیٹھے دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود مستند علماء کے دروس سے استفادہ کر سکتا ہے، قرآنِ کریم سیکھ سکتا ہے، حدیث، فقہ، تفسیر اور تصوف کا مطالعہ کر سکتا ہے، اور مختلف دینی و عصری کورسز میں شرکت کر سکتا ہے۔
یہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ تاہم ہر نعمت کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اصل کامیابی صرف معلومات حاصل کرنے میں نہیں بلکہ صحیح علم حاصل کرکے اس پر عمل کرنے میں ہے۔
علم کی اہمیت اسلام کی نظر میں
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾
ترجمہ:
"اور عرض کرو: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔”
(سورۂ طٰہٰ، آیت: 114)
یہ مبارک آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ علم حاصل کرنے کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ایک مسلمان پوری زندگی اپنے علم میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، چاہے وہ روایتی ذرائع سے ہو یا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے۔
علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ نے رد المحتار علی الدر المختار کے مقدمے میں اس آیت کے تحت نقل فرمایا:
«كل شيء يسأل عنه العبد يوم القيامة إلا العلم؛ لأنه طلب من نبيه أن يطلب الزيادة منه: ﴿وقل رب زدني علما﴾.»
ترجمہ:
"قیامت کے دن بندے سے ہر چیز کے بارے میں سوال ہوگا، مگر علم کے بارے میں نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو خود علم میں اضافے کی دعا کرنے کا حکم فرمایا ہے۔”
(رد المحتار علی الدر المختار، مقدمۃ الکتاب، جلد 1)
یہ بات علم کی عظمت اور اس کی فضیلت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«طلب العلم فريضة على كل مسلم.»
ترجمہ:
"علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔”
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 224)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مشہور فرمان ہے:
"علم، مال سے بہتر ہے۔ علم تیری حفاظت کرتا ہے، جبکہ مال کی تجھے حفاظت کرنی پڑتی ہے۔”
(اللہ والوں کی باتیں، جلد 1، صفحہ 167)
یہ تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ حقیقی دولت علم ہے، کیونکہ یہی علم انسان کے عقیدے، عبادات، اخلاق اور پوری زندگی کی صحیح رہنمائی کرتا ہے۔
آن لائن تعلیم: ایک عظیم سہولت
جدید ٹیکنالوجی نے دینی تعلیم کو ہر شخص کی دسترس میں پہنچا دیا ہے۔
دیہات میں رہنے والا نوجوان بھی بڑے علماء کے دروس سن سکتا ہے۔
ملازمت پیشہ افراد اپنے فارغ اوقات میں دین سیکھ سکتے ہیں۔
خواتین اپنے گھروں میں رہتے ہوئے قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔
بیرونِ ملک مقیم مسلمان بھی مستند اسلامی تعلیم سے اپنا تعلق برقرار رکھ سکتے ہیں۔
اگر اس سہولت کو اخلاص، ذمہ داری اور صحیح نیت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم نعمت ثابت ہو سکتی ہے۔
ہر آن لائن معلومات صحیح نہیں ہوتی
جس رفتار سے علم عام ہوا ہے، اسی رفتار سے غیر مستند معلومات بھی پھیل رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ہر بولنے والا عالم نہیں ہوتا، اور ہر وائرل ہونے والی بات بھی درست نہیں ہوتی۔
قرآنِ کریم کی اپنی رائے سے تفسیر کرنا، احادیثِ مبارکہ کی غلط تشریح کرنا، شرعی مسائل کو بغیر تحقیق بیان کرنا، یا ذاتی آراء کو دین کے نام پر پیش کرنا امتِ مسلمہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
آج کل سوشل میڈیا اور بعض میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے افراد بھی خود کو "اسلامک اسکالر” کے طور پر پیش کرتے ہیں جن کے پاس مستند دینی تعلیم نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے بہت سے لوگ غلط معلومات کا شکار ہو جاتے ہیں اور دینی انتشار پیدا ہوتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ مسلمان دین صرف مستند علماءِ اہلِ سنت، معتبر سنی اداروں اور قابلِ اعتماد کتب سے سیکھیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ معتبر کتابوں کی پہچان کے لیے اہلِ علم سے رہنمائی حاصل کی جائے، کیونکہ ہر شخص صحیح اور غیر صحیح مراجع میں فرق نہیں کر سکتا۔
حقیقی دین داری صرف آن لائن موجودگی نہیں
صرف اسلامی ویڈیوز دیکھ لینا، دینی پوسٹس شیئر کر دینا یا خوبصورت اقوال نشر کر دینا ہی دین داری نہیں ہے۔
عملی دین داری کا مطلب یہ ہے کہ انسان:
- صحیح اور مستند علم حاصل کرے۔
- اہلِ علم کی صحبت اختیار کرے۔
- باقاعدگی سے اسلامی کتابوں کا مطالعہ کرے۔
- اپنے حاصل کردہ علم پر عمل کرے۔
- اپنے اخلاق، عبادات اور معاملات کو اسلام کے مطابق بنائے۔
جو قوم کتاب سے اپنا تعلق کمزور کر دیتی ہے، وہ رفتہ رفتہ عمل سے بھی دور ہو جاتی ہے۔
ٹیکنالوجی کو خیر کا ذریعہ بنائیں
ٹیکنالوجی اپنی ذات میں نہ اچھی ہے اور نہ بری، بلکہ اس کا استعمال اس کی حقیقت کو متعین کرتا ہے۔
اگر ہم انٹرنیٹ کو اخلاص، تحقیق اور اعتدال کے ساتھ استعمال کریں تو یہی ذریعہ دین کی دعوت، صحیح علم کی اشاعت اور امت کی اصلاح کا سبب بن سکتا ہے۔
لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی غیر مستند معلومات، فضول مشاغل، وقت کے ضیاع اور گمراہی کے فروغ کے لیے استعمال کی جائے تو یہی نعمت نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
اس لیے ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ٹیکنالوجی ہماری خدمت کرے، نہ کہ ہماری سوچ، وقت اور کردار پر حاکم بن جائے۔
علم کو عمل میں تبدیل کریں
حقیقی کامیابی صرف معلومات جمع کرنے میں نہیں، بلکہ انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے میں ہے۔
آن لائن دروس سننے کے ساتھ ساتھ نماز، اخلاق، معاملات، والدین کی خدمت، حقوق العباد اور اسلامی تعلیمات پر عمل بھی ضروری ہے۔
جب علم اخلاص، صحیح فہم اور عمل کے ساتھ جمع ہو جائے تو وہ انسان کی دنیا بھی سنوارتا ہے اور آخرت بھی۔
اختتامی کلمات
آن لائن ذرائع نے علم حاصل کرنے کے بے شمار دروازے کھول دیے ہیں، لیکن ان سے حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا جب ہم مستند علم حاصل کریں، اسے سمجھیں، اس پر عمل کریں اور اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نافع علم عطا فرمائے، مستند اہلِ علم سے وابستہ رکھے، ہمارے علم میں برکت عطا فرمائے، ہمیں ہر قسم کی گمراہی اور فتنوں سے محفوظ رکھے، اور جدید ٹیکنالوجی کو دینِ اسلام کی خدمت، خیر کی اشاعت اور اپنی آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔


